’ابھی ٹیم میں جگہ بنانی ہے، لارڈز پر کھیلنا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارتی خاتون کرکٹر نے ماں بننے کے بعد پھر سے کھیلنے کا ارادہ کیا ہے

میں، نیہا تنور، افتتاحی بلے باز اور آف سپنر، بھارتی ٹیم کی طرف سے ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف کھیل چکی ہوں لیکن میں نے سنہ 2014 میں نے یہ سب چھوڑ دیا تاکہ ماں بن سکوں۔

14 فروری سنہ 2014 کو جب میں نے دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم کے باہر قدم رکھے تو مجھے معلوم تھا کہ یہ میرا آخری میچ تھا۔ بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ لینے کے باوجود اس وقت ذہن پر بہت بوجھ تھا۔

ایسا نہیں تھا کہ میں نے اپنے کریئر کی بلندیوں کو چھو لیا تھا یا یہ طے کر لیا تھا کہ سارے ہدف حاصل کر چکے ہیں۔

میں نے بین الاقوامی سطح پر کھیل اور فٹنس کی بہترین سطح کو دیکھا اور سمجھا تھا، کئی ممالک کی ٹیموں کا سامنا کیا تھا۔ لیکن اب بھی کرکٹ کا مکہ کہے جانے جانے والے لارڈز کے میدان پر بیٹنگ نہیں کی تھی۔

ابھی مجھ میں بہت کرکٹ باقی تھی لیکن اب وقت ہو گیا تھا۔ خاندان کا دباؤ تو تھا ہی، میرا اپنا دل بھی کہہ رہا تھا کہ اب میرا میدان میرا گھر ہو گا، میرا بچہ ہوگا۔

لیکن جب میں حاملہ ہوئی تو کرکٹ کے باہر خود کو نہیں دیکھ پا رہی تھی، ہر چیز میں کرکٹ تلاش کرتی تھی۔ ٹی وی پر میچ دیکھتی رہتی تھی، کمنٹری سنتی تھی اور اپنے پرانے کھیل کے ویڈیو دیکھتی.

تصویر کے کاپی رائٹ Neha Tanwar
Image caption نیہا پہلے دہلی یونیورسٹی پھر دہلی کی ٹیم میں شامل ہوئیں اور پھر بھارتی ٹیم میں جگہ بنائی

جیسے جیسے ولادت کا وقت قریب آیا، مجھے ڈپریشن ہونے لگا۔ ہر وقت میدان پر كھیلنےوالي میں، بستر پر لیٹی رہتی تھی۔

مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں آسانی سے کرکٹ نہیں چھوڑ پاؤں گی اور یہ تو بہت مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

مزے کہ بات تو یہ ہے کہ میں نے کبھی بھی کرکٹ کھیلنے کا خواب نہیں دیکھا تھا۔ کھیلوں میں بہترتو تھی لیکن شوق ایتھلیٹکس کا تھا۔ کالج میں داخلہ لینے کے لیے بھی ایتھلیٹکس کے ٹرائل کے لیے گئی تھی۔

لیکن ایتھلیٹکس کے کوچ نہیں آئے تھے اور کرکٹ کا ٹرائل جاری تھا۔ بس یوں ہی ٹرائل دے دیا، پاس ہو گئی اور دہلی کے میتري کالج میں میرا داخلہ ہو گیا۔

تب اتنی اونچی پرواز کا خیال نہیں گزرا تھا۔ سوچتی تھی کہ دہلی یونیورسٹی کے تمام کالجوں سے چن کر بنائی جانےوالی یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم میں بھی جگہ مل گئی تو یہی سب سے بڑا کارنامہ ہوگا۔

سلیکشن پر بہت خوش ہوئی، مجھے محسوس ہوا کہ مجھے سب کچھ مل گیا ہے۔ لیکن ابھی تو بہت سفر باقی تھا۔

پہلے انڈر -19، پھر سینیئر لیول اور پھر ریلوے میں سپورٹس کے شعبے میں ٹرائل پاس کیا اور نوکری مل گئی۔ اس وقت تک کرکٹ سے محبت اتنی بڑھ گئی تھی کہ کیا کہوں۔ نظریں آسمان کی طرف تھیں۔

میں نے خوب محنت کی اور دہلی کی ٹیم میں منتخب کی گئی، پھر انٹر زونل، چیلنجر ٹرافی اور آخر کار سنہ 2011 میں بھارت کی ٹیم میں جگہ ملی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Neha Tanwar
Image caption وہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف کھیل چکی ہیں

یہی وہ وقت تھا کہ میری شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد بھی میں کھیلتی رہی۔ تین سال گزر گئے اور آخر ماں بننے یعنی کرکٹ چھوڑنے کا وقت آ گیا۔

نو ماہ تک اپنے آپ سے لڑنے کے بعد آخر میں نے ہمت یکجا کی اور اپنے خاندان سے کہا کہ یہ ہو نہیں پا رہا۔ بغیر کرکٹ کے زندگی ادھوری ہے۔

میں بہت خوش نصیب تھی کہ وہ راضی ہو گئے بلکہ میرے بیٹے شلوک کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی لے لی۔

اب میرے سامنے چیلنج میرا اپنا تھا۔ حمل کے دوران میرا وزن 20 کلو سے بڑھ گیا تھا۔ اگر مجھے واپس بھارت کی ٹیم میں جگہ بنانی تھی تو فٹنس سب سے ضروری تھی۔

یہ بہت مشکل تھا۔ وقت سے پہلے سیزیریئن ولادت کی وجہ سے میں بہت کمزور بھی ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر نے طویل بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا تھا۔

میں ٹھیک سے اٹھ بیٹھ بھی نہیں پاتی تھی۔ وزن اتنا پریشان کن تھا، مجھے شک ہونے لگا کہ میں نے جو کچھ سوچ رکھا ہے اسے کر بھی پاؤں گی یا نہیں۔

شلوک کے پیدا ہونے کے چھ ماہ بعد میں نے آہستہ آہستہ پیدل چلنا شروع کیا۔ پھر ٹہلنا، پھر دوڑنا لیکن اب بھی بیٹ پکڑنے کے قابل فٹنس سے میں بہت دور تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Neha Tanwar
Image caption ماں بننے کے بعد پھر سے انھوں نے میدان کا رخ کیا ہے

پہلے دو مہینوں میں دو تین کلو کم ہونے کے بعد گویا وزن وہیں رک گیا۔ بہت محنت کے بعد بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا اور ٹریننگ پر نہیں جا پا رہی تھی۔ میں مایوس ہونے لگی۔.

پھر پانچ دن کے بعد پتہ نہیں کس طرح میرے ارادے پھر سے مضبوط ہوئے اور میں نے فیصلہ کیا کہ کوشش کرنا نہیں چھوڑوں گي اور میدان کی جانب چل پڑی۔

آخر چھ ماہ کی کڑی محنت کے بعد میں نے اپنا وزن 20 کلو کم کر لیا اور دہلی کی ٹیم کے ٹرائلز کے لیے پہنچ گئی۔

وہاں مجھے دیکھ کر کسی کو یقین نہیں ہوا کہ میں ایک بچہ پیدا کرنے کے بعد بھی اتنی فٹ ہوں۔ ٹیم میں زیادہ تر نوجوان كھلاڑيوں کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن میرے تجربے کو پھر جگہ مل گئی۔

میں پھر سے میدان پر قدم رکھنے اور پہلی بار اپنے ایک سالہ بیٹے کو اس کے پاپا، دادا اور دادی کے پاس چھوڑ شہر سے باہر جانے کے لیے تیار تھی۔

یہ سب اتنا آسان نہیں تھا، جب پہلے دن شلوک کو چھوڑا تو گلا رندھ گيا۔ جب فون پر اس کا حال پوچھا تو رو بھی پڑی۔

لیکن کرکٹ کے کھیل نے ہمت دی۔ ہمت بھی اور خوشی بھی۔ میں اب 29 سال کی ہوں۔ میں جب تک فٹ رہوں گی، کھیلتی رہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Neha Tanwar
Image caption انھوں نے اپنی فٹنس واپس حاصل کرنے کے لیے کڑی محنت کی ہے

میں دوسری کسی خاتون کرکٹرز کو نہیں جانتی جنھوں نے بچہ پیدا کرنے کے بعد کھیل میں واپسی کی ہو۔ میں نے کی ہے اور میں اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتی۔

دہلی کی ٹیم میں جگہ بنائی ہے اور اب مجھے ہندوستان کی ٹیم میں جگہ بنانی ہے۔ لارڈز کے میدان پر کھیلنا ہے۔

راہل ڈراوڑ کی طرح میدان پر ڈٹے رہنا ہے اور ٹیم کو جیت دلا کر آنا ہے۔

میں اس عظیم کھلاڑی جیسی تو نہیں ہوں پر کسی نے مجھ سے کہا ہے کہ میں زندگی کی پچ پر رہ کر، اپنے حصار کو توڑنے کا حوصلہ ضرور رکھتی ہوں۔

(یہ مضمون بی بی سی کی نامہ نگار دیویہ آریہ سے بات چیت پر مبنی ہے)

اسی بارے میں