شیراپووا: سائبیریا سے ممنوعہ ادویات تک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماریا شیراپووا دنیا بھر میں سب سے زیادہ آمدن والی خواتین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں

ٹینس کی سابقہ عالمی نمبر ایک کھلاڑی ماریا شیراپووا نے اعتراف کیا ہے وہ آسٹریلین اوپن کے سلسلے میں ہونے والے ممنوعہ ادویات کے ٹیسٹ میں ناکام ہو گئی ہیں۔ آپ کی دلچسپی کے لیے ہم یہاں ماریہ شیراپووا سے متعلق پانچ باتوں کا ذکر کرتے ہیں۔

14 برس کی پروفیشنل کھلاڑی

شیراپووا نے نہایت کم عمری میں ہی ٹینس کی گیندوں کی درگت بنانا شروع کر دی تھی اور صرف آٹھ برس کی عمر میں وہ ماسکو میں ایک نمائشی میچ میں حصہ بھی لے چکی تھیں جس میں خواتین کی ٹینس کی عالمی چیمپیئن مارٹینا نیوراٹیلووا بھی شامل تھیں۔

ایک ہی برس بعد نو سال کی عمر میں وہ اپنے والد کے ہمراہ امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک ٹینس اکیڈمی میں پہنچ گئیں۔ ان کی والدہ سائبیریا میں ہی رہیں اور امریکہ کا ویزا نہ ملنے کی وجہ سے وہ اور ان کے شوہر اگلے دو سال تک اپنی بیٹی سے دور روس میں ہی رہے۔

اکیڈمی کے سربراہ نِک بلوٹیری نے نو سالہ بچی میں موجود اس جوہر کی شناخت کر لی جو آنے والے برسوں میں شیراپووا کو ایک بڑی کھلاڑی بنا سکتا تھا۔ اور یوں ہی ہوا اور محض 14 برس کی عمر میں شیراپووا پروفیشنل کھلاڑی بن گئیں۔

صرف ایک سال میں دو کروڑ 95 لاکھ ڈالر

مشہور رسالے ’فوربز‘ کے مطابق 28 سالہ شیراپووا گذشتہ 11 برس سے مسلسل دنیا کی سب سے زیادہ آمدن والی خاتون ایتھلیٹ ہیں۔ صرف ٹینس کے مقابلوں میں شرکت سے انھوں نے سنہ 2015 میں تقریباً دو کروڑ 95 لاکھ ڈالر کمائے۔ اس کے علاوہ شیراپووا نے پینے کا پانی فروخت کرنے والی بین الاقوامی کپمنی ایویئن، ٹاگ ہوئر، پورشا، ایوان، اور نائیک کے ساتھ بھی تشہیری معاہدے کر رکھے ہیں۔

ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے اعتراف کے بعد نائیکی نے شیراپووا کے ساتھ اپنا وہ طویل معاہدہ معطل کر دیا ہے جو اس وقت شروع ہوا تھا جب شیراپووا محض 11 برس کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شیراپووا نے جب ومبلڈن جیتا تھا تو ان کی عمر 17 سال تھی

اب گھڑیاں بنانے والی سوئس کمپنی ٹاگ ہوئر نے بھی کہہ دیا ہے وہ بھی ٹینس کی اِس سٹار کھلاڑی کے ساتھ اپنا تعلق ختم کر رہی ہے۔

پانچ عالمی مقابلوں (گرینڈ سلیمز) میں کامیابی

جب سنہ 2004 میں ماریا شیراپووا نے ومبِلڈن جیتا تھا تو وہ 17 برس کی تھیں اور یوں وہ یہ عالمی مقابلہ جیتنے والی تیسری کم عمر ترین خاتون کھلاڑی بن گئی تھیں۔ ومبلڈن میں اس کامیابی کے عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک کھلاڑی بن گئیں۔

سنہ 2006 میں انھوں نے امریکہ میں ٹینس کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ یو ایس اوپن میں کامیابی حاصل اور پھر سنہ 2008 میں کاندھے میں تکلیف کے باوجود انھوں نے میلبرن (آسٹریلیا) میں تیسرا گرینڈ سلیم بھی اپنے نام کر لیا۔

لیکن اس کے بعد صحت کی خرابی ان کے آڑے آنے لگی اور ان کی فارم خراب ہونا شروع ہو گئی۔ اور پھر وہ وقت بھی آیا جب وہ سنہ 2010 میں عالمی درجہ بندی میں 18ویں نمبر پر چلی گئیں۔

تاہم شیراپووا نے اتنے نچلے درجے پر زیادہ عرصہ نہیں گزارا اور دو ہی سال بعد (سنہ 2012) میں وہ دوبارہ عالمی درجہ بندی میں اس وقت اوپر گئیں جب انھوں نے ’فرینچ اوپن‘ میں سارا اِرّانی کو شکت دے دی اور اپنے کیریئر کا ایک اور گرینڈ سلیم جیت لیا۔

اور پھر اسی سال اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیت کر وہ ایک مرتبہ پھر عالمی نمبر ایک بن گئیں۔

سنہ 2014 میں وہ دوسری مرتبہ فرینچ اوپن جیتنے میں کامیاب رہیں اور یوں وہ پانچ گرینڈ سلیمز جیتنے والی کھلاڑی قرار پائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماریا شیراپووا نے اپنا پانچواں گرینڈ سلیم اس وقت جیتا تھا جب انھوں نے 2014 میں فرینچ اوپن کے فائنل میں کامیابی حاصل کی تھی

آبائی گھر چرنوبل کے قریب

جب سنہ 1986 میں چرنوبل کے مقام پر جوہری حادثوں کی تاریخ کا ایک بڑا حادثہ ہوا تو اس وقت شیراپووا کے خاندان والے جوہری سٹیشن سے محض 80 میل کی دوری پر رہ رہے تھے۔ حادثے کے بعد جب شیراپووا کے والدین اور خاندن والے وہاں سے بھاگے تو اس وقت شیراپووا کی والدہ حمل سے تھیں اور آئندہ چند ماہ میں ان کے ہاں پیدا ہونے والی بچی نے عالمی چیمپیئن بننا تھا۔

چرنوبل کے علاقے سے نکلنے کے بعد جو مقام خاندان کا اگلا مسکن ٹھہرا وہ سائبریا کا قصبہ نیاگان تھا۔ پھر اسی قصبے میں شیراپووا کی پیدائش ہوئی اور انھوں نے زندگی کی ابتدائی سال گزارے۔

بعد کے برسوں میں شیراپووا نے چرنوبل کے متاثرین کی بہبود کے لیے رقم بھی عطیہ کی اور ’ماریا شیراپووا فاؤنڈیشن‘ کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی۔ اس کے علاوہ شیراپووا اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے (یو این ڈی پی) کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔

ممنوعہ ادویات کا استعمال

پیر سات مارچ کو ٹینس کی سابق عالمی نمبر ایک کھلاڑی نے انکشاف کر دیا کہ آسٹریلین اوپن کے دوران ہونے والے ڈرگ ٹیسٹ میں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس ٹیسٹ میں ناکام ہو گئی ہوں اور میں اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’مجھے امید ہے کہ مجھے ٹینس کھیلنے کا ایک اور موقع دیا جائے گا‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 2006 سے اپنی بیماری کی وجہ سے میلڈونیم نامی دوا کا استعمال کر رہی تھیں۔

شیراپووا نے کہا کہ ’میں اس ٹیسٹ میں ناکام رہی اور میں اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتی ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ گذشتہ دس برس سے اپنے فیملی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مِلڈرونیٹ نامی دوا کا استعمال کر رہی ہیں جو میلڈونیم کا ایک اور نام ہے۔

شیراپووا کے اس اعتراف کے بعد انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کا کہنا ہے کہ انھیں 12 مارچ سے عارضی طور پر معطل کر دیا جائے گا۔

شیراپووا کا کہنا تھا کہ وہ جانتی ہیں کہ ان سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے اور انھیں اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، تاہم وہ پرامید ہیں کہ انھیں دوسرا موقع دیا جائے گا۔

اسی بارے میں