سیکس ورکرز کے بچوں کی فٹبال لیگ

تصویر کے کاپی رائٹ Ronny Sen
Image caption پداتک فٹبال لیگ کے بہت سے بچے بھارت کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں

یہ کوئی عام فٹبال میچ نہیں ہے، اور اس بات کا اندازہ آپ کو تماشائیوں کو دیکھ کر ہی ہو جاتا ہے۔

تماشائیوں کی نصف سے زائد تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔

بھارت کا مشرقی شہر کولکتہ فٹبال کے کھیل کا شائق ہے۔ تاہم کسی میچ کے موقعے پر خواتین کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی غیرمعمولی بات ہے، خاص طور پر ایک گرم شام میں۔

یہ سیکس ورکرز کے بچوں پر مشتمل پداتک فٹبال لیگ کا فائنل میچ ہے اور تمام خواتین اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے موجود ہیں۔

گذشتہ پانچ سالوں سے 65 ہزار سیکس ورکرز کی ’دربار مہیلا سمنویا کمیٹی‘ (ڈی ایم ایس سی) بھارت میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا ٹورنامنٹ کروا رہی ہے۔

ڈی ایم ایس سی کی رکن ستابی سہا کہتی ہیں: ’یہ اخلاقی حمایت کے لیے ہے لیکن مجھے کھیلوں میں دلچسپی ہے اور کبھی میں باسکٹ بال کھیلا کرتی تھی۔‘

ڈی ایم ایس سی کی سیکریٹری بھارتی دے نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم سیکس ورکرز کے بچوں کے لیے ایک گھر چلاتے ہیں۔ تاہم یہ بچے بدنامی کے باعث سکول جانا چھوڑ دیتے تھے۔ ہمیں کسی مصروفیت کی ضرورت تھی جو انھیں اپنی توجہ سکول پر مرکوز کرنے میں مددگار ثابت ہو اور فٹبال کو تو ہر کوئی پسند کرتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ronny Sen
Image caption اس فائنل کو دیکھنے کے لیے خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی

ٹورنامنٹ میں اس سال ایک اہم تبدیلی نظر آئی ہے۔ کھلاڑیوں کو 16 ٹیموں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ٹیم کا نام مغربی بنگال کے ایک ریڈلائٹ ایریا کے نام پر رکھا گیا ہے۔

ہر ٹیم کا اپنا ایک ’مالک‘ ہے۔ دے کہتی ہیں ’شاہ رخ خان جیسے فلمی اداکار اگر کرکٹ ٹیم خرید سکتے ہیں تو پھر ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ مجھے فخر ہے کہ ہماری 16 ٹیمیں ہیں اور تمام ٹیمیں فروخت ہو چکی ہیں۔‘

ان ٹیموں کا مقصد سماجی سطح پر ان بچوں کوتسلیم کروانا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی قیمت بہت زیادہ نہیں رکھی گئی ہے۔ ایک ٹیم کی قیمت سات ہزار بھارتی روپے ہے۔

فائنل میں پہنچنے والی ٹیم دربار سپورٹس اکیڈمی کے دفاعی کھلاڑی17 سالہ بدھا دیو ہلدار کہتے ہیں انھیں غلط ناموں سے پکارے جانے کی عادت ڈالنا پڑی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ’لوگ کہتے کہ ہم اس (ریڈ لائٹ ایریا) سے آئے ہیں، ہماری مائیں اچھی نہیں ہیں۔ میں بہت اکیلا محسوس کرتا تھا۔‘

بسیر ہٹ ٹیم کے 14 سالہ مشتاق غازی کہتے ہیں کہ ’ہمیں فٹبال خود ہی سیکھنا پڑا تھا۔ ہمارے پاس کوئی باقاعدہ کوچ نہیں تھا۔ ہمارے پاس کھیلنے کے لیے کوئی میدان بھی نہیں تھا۔ جب ہم گاؤں میں کھیلتے تھے تو لوگ ہمارے بارے میں بہت غلط باتیں کرتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ronny Sen
Image caption بھارتی فٹبال لیجنڈز چنی گوسوامی اور پی کے بینرجی نے بھی یہ فائنل میچ دیکھا

ان کے دوست سونو کندو نے بتایا کہ ان بچوں سے کہا جاتا تھا کہ وہ سر جھکا کے سیدھا سکول جائیں، پڑھائی کریں اور واپس آ جائیں۔

وہ کہتے ہیں کہ فٹبال کے باعث تبدیلی آئی ہے۔ اب سکول کے دوسرے طالب علم بھی میچ دیکھنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے آتے ہیں جبکہ اساتذہ تربیت کرنے کے لیے اضافی وقت دیتے ہیں۔

کھیل کا آغاز ہوتے ہی ایک ٹیم کے مالک پرابیر رے تمام بچوں کو دائرے میں اکٹھا کر لیتے ہیں اور انھیں سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہاں کھیل دیکھنے کے لیے کئی بڑے لوگ موجود ہیں۔ کوئی بے ایمانی نہیں ہونی چاہیے، اور نہ ہی غلط زبان کا استعمال ہونا چاہیے۔‘

فٹبال کے باعث ان بچوں کے آگے بڑھنے کے لیے کئی نئی راہیں کھلی ہیں۔ ان میں سے کم از کم سات سے آٹھ بچے مغربی بنگال کی ریاستی ٹیم کی جانب سے کھیل چکے ہیں جبکہ چند بھارت کی 15 اور 16 سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی قومی ٹیموں کے لیے بھی کھیل چکے ہیں۔

کچھ کھلاڑی انگلینڈ کی مانچسٹر یونائیٹڈ کے ساتھ تربیت کے لیے بھی جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ronny Sen
Image caption بدھادیو ہیلدر کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ سے سوچ تبدیل کرنے میں مدد ملی ہے

بچے کہتے ہیں کہ وہ فٹبال کے بڑے کھلاڑی بننا چاہتے ہیں۔ ان میں سے ایک غازی کہتے ہیں کہ ’میرا ہیرو میسی ہے۔‘

تاہم یہ آسان نہیں ہو گا۔ ان بچوں کو صحت بخش غذا میسر نہیں ہے۔ ان بچوں کے پاس سہولیات سے زیادہ قوت ارادی موجود ہے۔ دے کہتی ہیں کہ ’ہمیں مشکلات کا سامنا کرنے کی عادت ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ایک وہ وقت تھا جب لوگ یہ سوچتے تھے کہ سیکس ورکرز ہیلتھ ورکز نہیں بن سکتیں ’لیکن ہم نے انھیں دکھا دیا کہ ہم ایسا کرسکتے ہیں اور اب ہمارے بچوں کی باری ہے۔‘

میچ کے اختتام پر اس وقت جب بچوں میں تمغے تقسیم کیے جارہے تھے، دیے نے ہمیں اپنا ایک خواب سنایا۔

وہ کہتی ہیں ’ہماری لڑکیوں کی فٹبال ٹیم بھی ہوا کرتی تھی لیکن ماؤں نے اس میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ میں اسے دوبارہ بحال کرنا چاہتی ہوں۔ بہت جلد۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ronny Sen
Image caption سونو کنڈو کی ماں سواپنا نے سخت محنت کی تاکہ ان کا بیٹے کو کھیلنے کا موقع مل سکے

اسی بارے میں