دو جاٹوں کا ٹی 20

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لگتا ہے ورلڈ ٹی20 کا معاملہ اب کرکٹ اہل کاروں کے بجائے پوری طرح اہلِ سیاست کے ہاتھ میں آ گیا ہے ۔ پچ پر میچ ہو نہ ہو اسلام آباد اور دہلی کے مابین البتہ ٹی 20 شروع ہو چکا ہے۔

جوں جوں 19 مارچ کا مجوزہ انڈیا پاکستان پول میچ قریب آتا جا رہا ہے پچ گھچ پچ ہوتی جا رہی ہے۔

’پاکستان بہانے نہ بنائے‘پاک بھارت میچ کولکتہ منتقل

وجوہات بظاہر فوری لگتی ہیں مگر فوری نہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ دسمبر میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کو بھارت کی جانب سے جس طرح لٹکا لٹکا کر مارا گیا اور پاکستان کی منت سماجت رائیگاں گئی، اس کے بعد پاکستان کے لیے یہ موقع آیا ہے کہ وہ سکور برابر کرنے کی کوشش کرے۔

دوسری جانب ٹورنامنٹ کا میزبان بھی مہمان کی جانب لچکدار رویہ یا مروت دکھانے کے بجائے ٹیمپر لوز کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

بھارت کی اس دلیل میں دم ہے کہ جب ہماچل پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ویر بہادر سنگھ کی جانب سے پاک بھارت میچ کی سکیورٹی کی ذمہ داری لینے میں ہچکچاہٹ کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے میچ کولکتہ منتقل کر دیا تو پاکستان کو مطمئن ہوجانا چاہیے تھا، اور یہ کہ جب سیف گیمز میں شریک پاکستانی کھلاڑیوں کی حفاظت پر کوئی سوال نہیں اٹھا تو اب پاکستان کو کیوں تشویش ہے؟

مگر پاکستان کی جانب سے سکیورٹی کی تحریری ضمانت پر اصرار بھی بلا جواز نہیں۔ ویسے تو ٹورنامنٹ میں 26 ٹیموں کو حصہ لینا ہے مگر دھمکیاں کئی جانب سے صرف ایک ٹیم کو ہی مل رہی ہیں۔

ممبئی کے وینکھیڑے سٹیڈیم میں 90 کے عشرے میں شیو سینا کی جانب سے پچ کھودے جانے، فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ پر ہلڑ بازی اور ممبئی میں گذشتہ نومبر میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کی آمد کے موقعے پر شیو سینا کا بھارتی کرکٹ ہیڈکوارٹر پر ہلہ بولنا۔ یہ سب واقعات پاکستان کی جانب سے ٹھوس یقین دہانی پر اصرار کے پس منظر میں جھول رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دہلی میں پاکستان کے سفیر عبدالباسط چاہتے تھے کہ بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ کی ان سے ملاقات ہو جائے اور اگر وزیرِ داخلہ ایک یقین دہانی والا زبانی بیان بھی دے دیں تو پاکستان مطمئن ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ ملاقات نہ ہو پائی۔

دو تین دن پہلے پاکستانی ٹیم کی روانگی کی بابت جو امکانات روشن ہوئے تھے وہ پھر معلق نظر آ رہے ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سروپ نے پاکستان کو الگ سے کوئی تحریری ضمانت دینے کے امکان کو رد کر دیا اوریہ کہا کہ پاکستان اگر ٹورنامنٹ میں شامل نہیں ہوتا تو پھر قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ اس کے بعد پاکستانی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ دھمکیوں کے سائے میں کرکٹ نہیں ہو سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اس معاملے پر سیاست کرنے کے بجائے ایشیئن کپ میں اپنی خراب پرفارمنس کو بہتر بنانے کی کوشش کرے: انوراگ ٹھاکر

انڈین کرکٹ بورڈ سے امید تھی کہ وہ بطور میزبان کوئی بیچ کی راہ تجویز کرے گا مگر اب بورڈ کے سیکریٹری جنرل انوراگ ٹھاکر نے کہہ دیا ہے کہ پاکستان اس معاملے پر سیاست کرنے کے بجائے ایشیئن کپ میں اپنی خراب پرفارمنس کو بہتر بنانے کی کوشش کرے اور جب ہم نے تمام ٹیموں کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں تو ہماری زبان کو کافی سمجھا جائے۔

لب و لہجہ اور حالات کچھ ایسے ہوتے جا رہے ہیں کہ مجھے وہ قصہ یاد آ رہا ہے جب ایک مہمان ایک جاٹ کے گھر آیا تو جاٹ نے اپنے بچے سے کہا: ’ابے او اندھا ہوگیا ہے، اٹھ اس موڑھے سے ورنہ مہمان کیا جوتوں پر بیٹھے گا؟ آؤ جی آؤ، اب آ ہی گئے ہو تو آ جاؤ۔ بھوجن بھی تیار ہے اور واپسی کی سواری بھی۔ اب جو تمہاری صلاح ہو ویسا ہی کر لیویں۔‘

مہمان بھی جاٹ تھا۔ کہنے لگا: ’میں تو تھوکوں بھی نہ تھارے گھر پہ۔ تاؤ کہہ رہا تھا بڑے دن ہوگئے تمہاری طرف سے کھبر نہیں آئی کہ جندہ ہو کہ مرگئے۔ اب تاؤ کو کھبر دوں گا کہ جندہ ہو تو خوش ہو جاویں گے۔ اب چلتا ہوں۔ پانی راستے میں ہی پی لوں گا۔‘

اسی بارے میں