بلے بازوں کا اعتماد بحال، آفریدی چھاگئے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کا آغاز اس سے زیادہ شاندار انداز میں نہیں کرسکتی تھی۔

کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں اس نے رنز کی ڈبل سنچری سکور کرنے کے بعد اپنے بولرز کے ذریعے بنگلہ دیش کو قابو کر لیا۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم نے ٹی 20 انٹرنیشنل میں دو سو سے زائد رنز بنائے ہیں۔ اتفاق سے پہلی مرتبہ بھی اس نے آٹھ سال قبل بنگلہ دیش ہی کے خلاف دو سو رنز کی حد پار کی تھی۔

55 رنز کی اس جیت کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے پاکستانی ٹاپ آرڈر بیٹنگ کا کھویا ہوا اعتماد پھر سے بحال کردیا جو ایشیا کپ میں بری طرح متزلزل ہوگیا تھا۔

کپتان شاہد آفریدی بھی جو پچھلے کچھ عرصے سے کارکردگی کے معاملے میں بجھے بجھے لیکن بیانات کے معاملے میں ناقدین کے ہدف پر تھے، بروقت فارم میں آئے اور ایسے آئے کہ بنگلہ دیشی ٹیم پر بجلی گرادی اور ساتھ ہی ناقدین کو فی الحال چپ کرا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption محمد عامر نے پہلے ہی اوور میں سومیا سرکار کو آؤٹ کر کے جو دھچکہ پہنچایا بنگلہ دیشی ٹیم اس سے سنبھل نہ سکی

شاہد آفریدی کا چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ جرات مندانہ تھا۔

صرف 19 گیندوں پر چار چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے بنائے گئے ان کے 49 رنز نے احمد شہزاد اور محمد حفیظ کی جانب سے فراہم کی گئی بنیاد کو مزید مضبوط بنا دیا۔

ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں کا سکور کرنا پاکستانی ٹیم کے نقطہ نظر سے خوش آئند ہے کیونکہ اس کی حالیہ مایوس کن کارکردگی کی سب سے بڑی وجہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی ناکامی رہی ہے۔

محمد حفیظ گذشتہ دو سال کے دوران ایک بھی نصف سنچری نہیں کرسکے تھے لیکن اس سال نیوزی لینڈ کے خلاف 61 رنز بنانے کے بعد وہ آج 64 رنز کی ایک اور عمدہ اننگز کھیل گئے۔

احمد شہزاد ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد واپس آئے ہیں اور انھیں بھی ایک اچھی اننگز کی ضرورت تھی جو وہ 52 رنز کی شکل میں کھیلنے میں کامیاب ہوگئے۔

ان تینوں کی جارحانہ بیٹنگ نے ان شائقین کو بھی داد دینے پر مجبور کردیا جو بنگلہ دیشی شرٹس پہن کر اسے اپنی پوری حمایت فراہم کرنے کے لیے ایڈن گارڈنز میں موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد شہزاد ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد واپس آئے ہیں اور انھیں بھی ایک اچھی اننگز کی ضرورت تھی

کولکتہ کے مقامی شائقین میں پاکستانی کرکٹرز بہت مقبول ہیں اسی لیے یہ شائقین اپنے ساتھ پاکستانی پرچم بھی لائے تھے اور جب جب چھکے ،چوکے لگے یا وکٹیں گریں انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار کھل کر کیا۔

جب سکور بورڈ پر ہندسے مستحکم ہوں تو بولرز کے حوصلے بھی بلند ہوجاتے ہیں۔

202 کا ہدف عبور کرنا بنگلہ دیش کے لیے مشکل تھا اور یہ مشکلات پاکستانی بولرز وقفے وقفے سے بڑھاتے گئے۔

محمد عامر نے پہلے ہی اوور میں سومیا سرکار کو آؤٹ کر کے جو دھچکہ پہنچایا بنگلہ دیشی ٹیم اس سے سنبھل نہ سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد حفیظ اس سال نیوزی لینڈ کے خلاف 61 رنز بنانے کے بعد وہ آج 64 رنز کی ایک اور عمدہ اننگز کھیل گئے

شاہد آفریدی نے پشاور زلمی کے اپنے ساتھی تمیم اقبال اور صابر رحمن کی وکٹیں حاصل کیں تو بنگلہ دیشی ٹیم کو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ ایشیا کپ نہیں ہے۔

شکیب الحسن نے ٹی 20 انٹرنیشنل میں ہزار رنز کا سنگ میل عبور ضرور کیا لیکن ان کے 50 رنز پاکستانی ٹیم کے لیے بے ضرر تھے۔

محمد عامر بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے بعد سے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے دس ٹی 20 اور پانچ ون ڈے وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

آج بھی انھوں نے جس گیند پر سومیا سرکار کو بولڈ کیا وہ ایک خوبصورت گیند تھی جس سے بچنا سرکار کے لیے ممکن ہی نہ تھا لیکن آج کا میلہ آفریدی لوٹ گئے۔

اب انتظار اس بات کا ہے کہ وہ کب ٹی 20 انٹرنیشنل میں سو وکٹیں مکمل کرنے والے دنیا کے پہلے بولر بنتے ہیں؟ جس کے لیے انھیں صرف پانچ وکٹیں درکار ہیں۔

اسی بارے میں