’جمود ٹوٹنا ہے تو اس بار کیوں نہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

آئی سی سی کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا انڈیا سے نہ جیتنے کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے، جس کا احساس پاکستانی کرکٹروں کو بھی ہے لیکن آل راؤنڈر عماد وسیم مایوس نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جمود ٹوٹنا ہے تو اس بار کیوں نہیں۔

وارم اپ میچ عماد وسیم کی عمدہ بولنگ’یہ وقت جذبے کے ساتھ کھیلنے کا ہے‘

عماد وسیم نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ انڈیا سے عالمی مقابلوں میں نہ جیتنے کا ’یہ جمود کبھی نہ کبھی ضرور ٹوٹنا ہے یہ ساری زندگی تو نہیں رہنا۔ تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ یہ اسی بار ٹوٹ جائے لیکن اس کے لیے پاکستانی ٹیم کو غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔‘

عماد وسیم کہتے ہیں کہ وہ انڈیا کے خلاف ابھی تک نہیں کھیلے ہیں لہٰذا ورلڈ ٹی 20 کے میچ کے حوالے سے وہ بہت پرجوش ہیں اور اس میچ میں اپنی ٹیم کے لیے کچھ کر دکھانا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عماد وسیم پہلی بار انڈیا کے خلاف میدان میں اتریں گے

عماد کہتے ہیں کہ انڈین بیٹنگ لائن بہت مضبوط ہے اور اس کے پاس ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں لہٰذا جس کسی بھی بیٹسمین کو وہ آؤٹ کریں گے وہ بڑی بات ہو گی۔

عماد کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ انڈین بیٹسمین سپنروں کو بہت اچھا کھیلتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم بھی اس بڑے مقابلے کے لیے بالکل تیار ہے۔

عماد وسیم کا کہنا ہے کہ وہ نتیجے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کی سوچ یہ ہے کہ نیک نیتی اور محنت کےساتھ جو بھی کام کیا جائے اس کا نتیجہ آپ کے حق میں آتا ہے۔

عماد وسیم کو خوشی اس بات کی ہے کہ ایشیا کپ کے دوران کھویا ہوا اعتماد ٹیم نے بحال کیا ہے اور بنگلہ دیش کے خلاف اس نے بہت ہی زبردست پرفارمنس دیتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے۔

عماد وسیم کو بین الاقوامی کرکٹ شروع کیے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا ہے لیکن انھوں نے اس مختصر سے عرصے میں جتنی بھی کرکٹ کھیلی ہے اس میں وہ ٹیم کے لیے اپنی بیٹنگ اور بائیں ہاتھ کی سپن بولنگ سے کچھ نہ کچھ کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔

شائقین کو ان کا وہ شاندار چھکا یاد ہے جس نے پاکستان کو سری لنکا کے خلاف کولمبو میں دوسرے ٹی 20 کے آخری اوور میں کامیابی سے ہمکنار کر دیا تھا۔ خود عماد وسیم کے لیے یہ کبھی نہ بھولنے والا لمحہ ہے۔

’جس وقت میں کھیل رہا تھا اس وقت مجھے اس چھکے کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا لیکن پاکستان پہنچنے کے بعد احساس ہوا کہ وہ ایک بڑی جیت تھی جس پر میں بہت خوش تھا امید کرتا ہوں ایسی اچھی پرفارمنس مستقبل میں بھی دکھاؤں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عماد وسیم نے زمبابوے کے خلاف ہرارے کے پہلے ٹی 20 میں پاکستان کی 13 رنز کی جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا

عماد وسیم کی سب سے شاندار کارکردگی زمبابوے کے خلاف ہرارے کے پہلے ٹی 20 میں رہی تھی جس میں انھوں نے ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 19 رنز بنانے کے بعد صرف 11 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی 13 رنز کی جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔

عماد وسیم دو میچوں کی اس سیریز میں مین آف دی سیریز رہے تھے۔

عماد وسیم کو اس بات سے قطعاً کوئی پریشانی نہیں ہے کہ اس وقت ان کے مقابلے میں دو دوسرے لیفٹ آرم سپنر ذوالفقار بابر اور محمد نواز بھی موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جس کے نصیب میں جتنا رزق ہوتا ہے وہ اسے ضرور ملتا ہے، وہ کسی بھی بولر سے اپنا مقابلہ اور موازنہ نہیں کرتے۔ ان کے ذہن میں صرف یہی بات ہوتی ہے کہ جب بھی موقع ملے وہ اپنی کارکردگی سے ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کریں۔

اسی بارے میں