کرکٹ کھیلو گی تو شادی کون کرے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کبھی بھرت ناٹيئم سے دل لگانے والی میتالی کے لیے کرکٹ کی راہ آسان بھی رہی اور مشکل بھی

’ کرکٹ کھیلنے پر میرے والدین نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائي کی لیکن دادا، دادی کو پسند نہیں تھا کہ میں کھیلوں۔ انھیں لگتا تھا کہ دھوپ میں كھیلےگی تو کالی ہو جائے گی اور پھر اس سے شادی کون کرے گا۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ہندوستان میں یہ بھی ایک مشکل ہے۔‘

یہ تجربات ہیںانڈیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان میتالی راج کے۔

میڈیا کوریج سے بھلے نہ لگے لیکن انڈیا میں اس بار ورلڈ ٹی 20 مقابلوں میں مردوں کے ساتھ ہی خواتین کے مقابلے بھی ہو رہے ہیں۔

خواتین ٹیم کو کتنی توجہ ملتی ہے، اس کا اندازہ اخباروں کی شہ سرخیوں سے ہی ہو جاتا ہے۔

دھونی کی ٹیم نیوزی لینڈ سے پہلا میچ کیا ہاری، لگا گویا کوئی بڑا ’دھماکہ‘ ہو گیا ہو۔ اسی دن انڈیا کی خواتین کی ٹیم جیتی مگر اس بارے میں ایسی خاموشی گویا فلم ’شعلے‘ کے اے ہنگل پوچھ رہے ہوں، ’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟‘

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ 1999 میں ون ڈے کیریئر شروع کرنے والی ہندوستانی کپتان میتالي بتاتی ہیں، ’جب میں نے کرکٹ کھیلنی شروع کیا تھا، تو خواتین کی کرکٹ کے بارے میں لوگ زیادہ نہیں جانتے تھے۔‘

وہ کہتی ہیں، ’ہم جب کٹ بیگ کے ساتھ سفر کرتے تھے تو لوگ پوچھتے تھے آپ ہاکی کے کھلاڑی ہو؟ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہم کرکٹ کے کھلاڑی بھی ہو سکتے ہیں۔‘

میتالی راج خواتین کھلاڑیوں میں ایک روزہ کرکٹ میں 5000 رنز مکمل کرنے والی دنیا کی دوسری کھلاڑی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mithali Raj Facebook Page
Image caption میتالی اس ورلڈ کپ کو بھارت میں خواتین کی کرکٹ کے لیے ’ٹرننگ پوائنٹ‘ قرار دیتی ہیں

وہ ٹیسٹ میں ڈبل سنچری بنا چکی ہیں اورانڈیا کی جانب سے 164 ون ڈے میچ کھیل چکی ہیں۔

کبھی بھرت ناٹيئم سے دل لگانے والی میتالی کے لیے کرکٹ کی راہ آسان بھی رہی اور مشکل بھی۔

اس بار ورلڈ کپ میں انڈیا کی کارکردگی کے حوالے سے میتالی کو کافی توقعات ہیں۔

ان کا کہنا ہے، ’انڈین خاتون ٹیم جس طرح سے کھیل رہی ہے ورلڈ کپ سے پہلے، اس حساب سے ہم چاہتے ہیں کہ کم از کم سیمی فائنل میں جگہ بنائیں کیونکہ پچھلی بار ہم سیمی فائنل میں بھی نہیں پہنچ پائے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش اور پاکستان کے خلاف ہم گذشتہ ورلڈ کپ کے بعد نہیں کھیلے۔ ظاہر ہے دو سال میں ہر ٹیم میں تبدیلی ہوتی ہے پر ہماری تیاری بھی کم نہیں ہے۔‘

اس ورلڈ کپ کوانڈیا کے لیے ’ٹرننگ پوائنٹ‘ قرار دیتے ہوئے میتالی کہتی ہیں کہ ’انڈین ٹیم ورلڈ کپ میں اچھا کھیلتی ہے تو یہ بہت بڑی تبدیلی ہو سکتی ہے، خاص طور پر ٹیم کی برینڈنگ یا سپانسرشپ کے حوالے سے کیونکہ اب بھی ذاتی سطح پر خواتین کھلاڑیوں کے پاس سپانسر نہیں ہیں۔‘

میتالی مانتی ہیں کہ انڈیا میں خواتین کی کرکٹ جلد مردوں کی کرکٹ کے برابر نہیں پہنچ پائے گی لیکن انھیں یقین ہے کہ ایسا ہوگا ضرور۔

بھرت ناٹيم سے کرکٹ ٹیم کی کپتانی کا سفر طے کرنے والی میتالی کو ویسے تو ’ کرائم تھرلرز‘ پسند ہیں مگر فی الحال ان کی توجہ ورلڈ ٹی 20 کے سنسنی خیز مقابلوں پر ہے۔

اسی بارے میں