23 سالوں میں پریشانیوں کی گیارھویں رات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان انڈیا کو ورلڈ کپ میں آخر کیوں ہرانا چاہتا یا چاہتی ہے؟

اس سوال کا جواب ویسے تو بہت آسان لگتا ہے، یعنی پاکستان نے آج تک انڈیا کو کسی بھی ورلڈ کپ میں نہیں ہرایا، الٹا ان سے دس دفعہ ہار چکے ہیں۔

جب ورلڈ کپ میں ان دونوں ٹیموں کا میچ ہوتا ہے تو پوری دنیا رک جاتی ہے، اور جب دوبارہ حرکت میں آتی ہے تو انڈیا کی جیت کی دھن پر ناچ رہی ہوتی ہے۔

مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم میچ جیتنا چاہتے ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم زندگی میں کافی کچھ چاہتے ہیں۔

مگر کوئی ایسی چیز ہے جس کے چاہنے میں ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں، پیٹ میں چوہے دوڑنے لگتے ہیں، متلی کا احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

ہم سب کی زندگی میں ایسی ایک دو اور چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کا ہم پر اسی قسم کا اثر ہوتا ہے، مگر وہ باقی چیزیں زندگی موت یا عشق و نفرت یا خاندان اور ورثے جیسے مسائل سے متعلق ہوتی ہیں۔

یہ تو صرف ایک کرکٹ میچ ہے۔

ہاں یہ بات بھی درست ہے کہ یہ کوئی معمولی میچ نہیں ہوتا۔ اس میچ کے لیے پورا ملک ٹھپ ہو جاتا ہے، کاروبار رک جاتا ہے، سرکاری دفتر ضرورت سے زیادہ سست ہو جاتے ہیں۔ اس میچ کو وہ سب عوام بیٹھ کر دیکھتے ہیں جو عام طور پر کرکٹ کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔ مگر یہ سب کیوں دیکھ رہے ہیں۔ ان کو اسے دیکھ کر ملے گا کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ملتا یہ ہے کہ چند گھنٹوں کے لیے کسی کے گزارنے کو وقت مل جاتا ہے، یا پھر کبھی باقی دنیا سے تھوڑی دیر کے لیے نجات مل جاتی ہے۔ چاہے آپ کی ٹیم میچ جیتے یا نہ جیتے، میچ کا ہونا ہی باقی مسائل کو تھوڑی دیر آپ سے دور رکھتا ہے۔

ہم جیتا کیوں چاہتے ہیں؟ آخر کار کون سا ہم یہ میچ خود کھیل رہے ہیں، اور کون سا اس میچ کے جیتے سے ہمیں کوئی فائدہ ہوگا؟

دراصل بات کچھ یوں ہے کہ جب رات کو آپ سونے لگتے ہیں تو آپ کے دماغ میں کچھ باتیں دوڑتی ہیں۔ یہ کبھی بھی کوئی اچھی باتیں نہیں ہوتیں، بلکہ ہمیشہ یہ وہ باتیں ہوتی ہیں جو آپ کو پریشان کرتی ہیں، جو آپ کو سکون کی نیند نہیں سونے دیتیں۔

کسی کو بھولے ہوئے قرضے یاد آتے ہیں اور کسی کو ذمہ داریاں تڑپاتی ہیں۔ ان باتوں کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ ہم زیادہ سے زیادہ بس کروٹ لے کے نیند آنے کی منّتیں مانتے ہیں۔

مگر جس دن میچ جیت جائیں، اس رات وہ مصیبتیں تھوڑی دور نظر آتی ہیں۔ اس رات ان تمام مسئلوں کا کوئی نہ کوئی حل دکھائی دینا شروع کر دیتا ہے اور اس رات کی نیند بھی پوری ہوتی ہے۔

افسوس آج رات پاکسانیوں کے لیے ایک اور بے چین رات ہو گی۔

اس میچ ہر پر بحث کا آغاز یقیناّ ایڈن گارڈن کی پِچ سے ہوگا جس پر میچ کے آغاز سے ہی بال خطرناک حد تک ٹرن کر رہی تھی اور بھارتی سپنر اور تیز بولر، دونوں ہی پاکستانیوں اوپنروں کا حال برا کر رہے تھے۔

پاکستان کے ٹاپ آرڈر کی عادت ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے موقعوں پر ناکام رہتا ہے، لیکن آج کے میچ میں یہ بات بہرحال حوصلہ افزا تھی کہ شروع کے اووروں میں وکٹیں نہیں گریں، لیکن رن ریٹ بہرحال نہایت سست رہا۔

میچ کے آغاز سے ہی جس طرح وکٹ نے ٹرن لینا شروع کیا، اس سے ظاہر ہو گیا تھا کہ پاکستان اس پِچ کو سمجھنے میں بری طرح ناکام رہا تھا۔

آفریدی نے سپنر آل راؤنڈر عماد وسیم کی جگہ تیز بولر محمد سمیع کو ٹیم میں شامل کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حیرت کی بات یہ ہے کہ دھونی نے بھی اپنے سپنروں کی بجائے تیز بولروں سے زیادہ بولنگ کرائی۔ ایشون کو پاکستانی بلے باز بالکل نہیں کھیل پا رہے تھے، لیکن اس کے باجود دھونی نے 18 میں سے دس اوور تیز بولروں سے ہی کرائے۔ اور یہی وہ اوور تھے جس میں یہ لگا تھا کہ پاکستانی ٹیم ایک معقول ٹوٹل بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ شعیب ملک اور عمر اکمل کی چند جارحانہ شارٹس کی بدولت پاکستان ایک مناسب سکور بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

جب انڈیا نے اپنی اننگز شروع کی توایسا لگتا تھا کہ وہ کسی اور ہی پچ پر کھیل رہے ہیں۔ دوسرے اوور میں انھوں نے دس رنز بنائے۔ لیکن سپنروں کی اس پچ پر بھی پاکستانی تیز بولروں نے اچھی بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ عامر نے اُس بیٹسمین کو آؤٹ کیا جس کا کہنا تھا کہ عامر ایک عام سے بولر ہیں۔ اور محمد سمیع نے بھی سریش رائنا اور شیکھر دھون کی وکٹیں لے کر اپنے ناقدین کے منہ بند کر دیے۔

لیکن دونوں ٹیموں کے درمیان جو سب سے بڑا فرق سامنے آیا وہ یہی تھا کہ نہ صرف یہ میچ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم، بلکہ پاکستان سکواڈ میں بھی کسی جینوئن سپنر کو شامل نہیں کیا گیا۔

ویراٹ کوہلی اور یوراج سنگھ نے آج بھی ایشیا کپ والی شاندار کارکردگی جاری رکھی اور شروع میں یکے بعد دیگرے تین وکٹیں گرنے کے باوجود یہ دونوں کھلاڑی دباؤ میں نہیں آئے۔ تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستانی بولر انھیں دباؤ میں نہ لا سکے اور پھر دھونی نے آ کر بڑے اطمینان کے ساتھ میچ انجام تک پہنچا دیا۔

23 سالوں میں آج پاکستانی شائقین 11ویں مرتبہ اپنی پرانی اور چند نئی پریشانیوں کے ساتھ سویں گے۔

اگر پاکستان کے پاس ایک اور سپنر ہوتا، تو کیا ہوتا؟

اگر آج پاکستان کے پاس کچھ اچھے بلے باز ہوتے، تو کیا ہوتا؟

کیا یہ پانسہ کبھی پلٹے گا؟؟

اسی بارے میں