صرف ٹیم اور اپنی کارکردگی کی فکر ہے: آفریدی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی تسلیم کرتے ہیں کہ انڈیا کے خلاف میچ میں غلطیاں سرزد ہوئیں لیکن وہ ٹیم پر کی جانے والی تنقید کو ایک جانب رکھتے ہوئے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جو ان کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

پاکستانی ٹیم جس نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلا میچ بڑے اعتماد سے جیتا تھا انڈیا سے شکست کے بعد اب اس پوزیشن میں ہے کہ اسے سیمی فائنل تک رسائی یقینی بنانے کے لیے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف میچز جیتنے ہیں۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ منگل کے روز موہالی میں کھیلا جا رہا ہے اور پاکستانی ٹیم نے پیر کے روز آئی ایس بندرا سٹیڈیم میں سخت ٹریننگ کی ہے۔

شاہد آفریدی جو ابھی تک اس ٹورنامنٹ میں پریس کانفرنس کرنے نہیں آ رہے تھے میڈیا کے سامنے آئے اور بڑے اعتماد سے سوالوں کے جوابات دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہد آفریدی نے کہا کہ میچ کا سب سے بڑا فرق ویراٹ کوہلی تھے

ان سے بیشتر سوالوں کا تعلق ٹیم پر ہونے والی تنقید سے تھا جس پر ان کا کہنا تھا کہ جب ٹورنامنٹ شروع بھی نہیں ہوا تھا اس وقت سے باتیں شروع ہوگئی تھیں۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ کون کیا کہہ رہا ہے کس نے کیا کہا انھیں اس کی فکر نہیں ہے۔ انھیں فکر اپنی ٹیم کی ہے اور اپنی کارکردگی کی ہے اور انھیں امید ہے کہ ان کی ٹیم اپنی صلاحیت اور مہارت کو صحیح استعمال کرے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے بھی یہ کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم سے زیادہ امید نہ رکھی جائے۔

شاہد آفریدی نے شائقین کے ردعمل کے بارے میں کہا کہ ٹیم سے پیار کرنے والے غصے کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن اس میں بھی پیار ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو بھی نتیجہ آئے گا وہ بعد کی بات ہے۔ وہ میدان میں سو فیصد کارکردگی دکھانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آفریدی کا کہنا تھا کہ موہالی میں کنڈیشنز پاکستان اور نیوزی لینڈ دونوں کے لیے برابر ہیں

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف میچ میں ٹاس ہارنے سے بھی بہت فرق پڑا، پھر پچ کو سمجھنے میں بھی غلطی ہوئی لیکن وہ کوئی بہانہ نہیں تراشیں گے۔

انھوں نے کہا کہ میچ کا سب سے بڑا فرق ویراٹ کوہلی تھے جنھوں نے ایشیا کپ میں بھی شاندار بیٹنگ کی تھی۔

آفریدی کا کہنا تھا کہ موہالی میں کنڈیشنز پاکستان اور نیوزی لینڈ دونوں کے لیے برابر ہیں لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو یہاں سبقت حاصل رہے گی۔

اسی بارے میں