کرکٹ ٹیم کو یومِ نجات مبارک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

تمام اہلِ پاکستان کو یومِ پاکستان اور قومی کرکٹ ٹیم کو ورلڈ ٹی 20 سے یومِ نجات مبارک ہو۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم میں لاکھ خامیاں سہی پر ایک خوبی سب پہ بھاری ہے یعنی ایک ہی طرح کی پرفارمنس کا شاندار تسلسل۔

ایشیا کپ کی یادگار کارکردگی سے ورلڈ ٹی 20 میں نیوزی لینڈ سے پڑنے والے میچ تک پاکستان نے اپنے طے کردہ کرکٹ معیار کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ ہر میچ میں یہ معیار اور بلند کیا۔اس پر ٹیم کی جتنا سراہنا ہو کم ہے۔

یہ درست ہے کہ ورلڈ ٹی 20 میں پاکستان نے شکست کی مسلسل بوریت سے اکتاتے ہوئے جسٹ فار اے چینج ایک میچ بنگلہ دیش سے جیت لیا مگر لوگ باگ اس طرح کی غیر متوقع جیت کے عادی نہ ہوجائیں سوچ کر فوراً اپنی روائیتی پرفارمنس پر پلٹ آئی۔

میری والدہ کہتی ہیں دال کوئی اناڑی بھی پکائے اچھی ہی پکتی ہے۔

دال خراب کرنا ہر کس و ناکس کے بس میں نہیں ۔اس کے لیے ایک خاص طرح کی غیر معمولی صلاحیت درکار ہے۔( مجھے نہیں معلوم کہ نیوزی لینڈ اور پاکستان کا میچ دیکھتے ہوئے والدہ نے یہ بات کس پیرائے میں کی)۔

منیر نیازی سے کسی نے کہا کہ انسانی جسم میں ناخن اور بال دو ایسے حصے ہیں جنہیں کاٹو بھی تو خون نہیں نکلتا۔ منیر نیازی نے بے نیازی سے کہا پھر تم نے میرے گاؤں کا نائی نہیں دیکھا۔

موجودہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں شرحِ صدر کے ساتھ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جتنی توانائی وہ میچ ہارنے میں صرف کرتی ہے اس سے آدھی طاقت لگا کر میچ جیتا بھی جاسکتا ہے مگر ہار کا نشہ جیتنے والے کیا جانیں۔

اس شرط پے کھیلوں گی پیا پیار کی بازی

جیتوں تو تجھے پاؤں ، ہاروں تو پیا تیری

آئن سٹائن کے بقول ’ایک ہی تجربہ بار بار دہرا کے ہر بار مختلف نتیجے کی امید رکھنے کو پاگل پن کہتے ہیں۔‘ کاش آئن سٹائن زندہ ہوتے اور اس وقت بھارت میں ہوتے تو دیکھتے کہ کس طرح ہر سپن وکٹ پر بار بار فاسٹ بالرز آزما کر شکست کا آنند کشید ہوتا ہے۔

تو کیا دیگر کرکٹ ٹیمیں مریخ سے اتری ہیں؟ نہیں صرف ایک ٹیم ہی مریخ سے اتری ہے لہذا اسے ’پی کے‘ کی طرح زمینی حقائق سمجھنے میں کچھ دیر لگے گی۔

عملاً پاکستانی ٹیم ورلڈ ٹی 20 میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ ہار کے سیمی فائنل کی فکر سے شانت اور تمام دنیاوی فکروں سے آزاد ہوگئی ہے پھر بھی جانے کیوں اسے آسٹریلیا کے خلاف آخری میچ کی جانب دھکیلا جا رہا ہے ۔جسے جیتنا بھی برابر اور ہارنا بھی برابر۔

جس ٹیم کو پاکسانی لڑکیوں کی ٹیم کی اب تک کی ورلڈ ٹی 20 پرفارمنس بھی جوش نہ دلا پائی اسے اور کیا شے ہلا سکتی ہے ؟ ویسٹ انڈیز سے صرف چار رنز سے ہارنے اور پھر بھارت سے دو رنز سے جیتنے کے بعد اب ویمن کرکٹ ٹیم کا اگلا ہدف بنگلہ دیش ہے۔

شاہد آفریدی نے اپنے ایک انٹرویو میں کرکٹ کھیلنے والی لڑکیوں کے بارے میں فرمایا کہ ’ لڑکیاں صرف کھانا اچھا بنا سکتی ہیں ۔سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔‘

وہی شاہد آفریدی اب ریٹائر ہونے والے ہیں۔اب اگر پاکستانی لڑکیوں کی ٹیم ورلڈ کپ اٹھا لاتی ہے تو پھر تو مسئلہ ہی حل ہوجائے گا۔ ثنا میر سے اچھا کون کپتان پاکستان کی مردانہ کرکٹ ٹیم کو ملے گا؟

اگر بہ سببِ غرورِ مردانگی ثنا میر کی کپتانی منظور نہ ہو تو پھر زکا احمد قریشی کے نام پر غور کیا جائے جن کی ٹیم نے گذشتہ ہفتے شارجہ میں ہونے والے چار ملکی 2016 آئی سی سی ڈیف چیمپئن شپ ٹرافی انگلینڈ کو فائنل میں تین وکٹوں سے ( 226 رنز ) ہرا کر جیت لی۔

سماعت سے محروم پاکستانی ٹیم کے بالر محمد شکیل کو بیسٹ بولر آف دی ٹورنامنٹ اور بلے باز نوید قمر کو بیسٹ بیٹسمین آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔

ثابت ہوگیا کہ پاکستانی ڈیف ٹیم بہری ضرور ہے مگر بے بہرہ ہرگز نہیں۔اس کے برعکس پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم نہ اپنی سنتی ہے نہ شائقین کی۔

مگر ریٹائرمنٹ کے بعد شاہد آفریدی کریں گے کیا؟ انھیں وہی کرنا چاہیے جس کا مشورہ وہ پاکستان کی ویمن ٹیم کو دے چکے ہیں۔ کوچ وقار یونس اور سلیکٹرز کے ساتھ مل کے ورلڈ ٹی20 کے نام سے فوڈ فرنچائز کھولنا کم ازکم کرکٹ سے زیادہ منافع بخش رہے گا۔

اسی بارے میں