موہالی میں ریکارڈ کچھ اچھا نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان نے اس میدان میں جو اب پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن سٹیڈیم سے بدل کر آئی ایس بندرا سٹیڈیم ہوچکا ہے ایک ٹیسٹ میچ کھیلا ہے جو ڈرا ہوا ہے۔ تاہم یہاں کھیلے گئے سات میں سے پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

1997 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے موہالی میں پہلی بار دو ون ڈے انٹرنیشنل میچز بھارت کی آزادی کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ٹورنامنٹ کے سلسلے میں نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے خلاف کھیلے تھے اور دونوں میں اسے شکست ہوئی تھی۔

نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کی خاص بات اس کے اوپنر نیتھن ایسٹل کی سنچری تھی۔

سری لنکا نے پاکستان کو ایک سو پندرہ رنز کے زبردست فرق سے شکست دی تھی۔

اس میچ میں سنتھ جے سوریا 96 اروندا ڈی سلوا 90، رانا تنگا 80 اور مرون اتاپتو 53 رنز بناکر قابل ذکر رہے تھے۔

1999 میں پاکستان نے بھارت کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل انضمام الحق اور اعجاز احمد کی نصف سنچریوں کی بدولت سات وکٹوں سے جیتا۔

2006 میں پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف لگاتار میچوں میں شکست ہوئی۔

نیوزی لینڈ نے اسے اکاون رنز سے ہرایا لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی ٹیم کے ساتھ بہت برا ہوا اور وہ 214 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 89 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

پاکستانی ٹیم کی یہ درگت مکھایا این تینی نے بنائی جنہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

2007 میں پاکستان نے اس میدان میں ایک بار پھر بھارت کو شکست دی۔ اس بار اس نے 322 رنز کا بھاری بھرکم ہدف عبور کرتے ہوئے چار وکٹوں سے کامیابی حاصل کی جس میں یونس خان کی شاندار سنچری قابل ذکر تھی۔

بھارت نے چار سال بعد پاکستان کو اس میدان میں پہلی بار شکست سے دوچار کیا لیکن یہ ایک بڑے موقع پر حاصل کی گئی بڑی جیت تھی۔

یہ موقع تھا 2011 کے عالمی کپ کے سیمی فائنل کا اور اس میں پاکستانی ٹیم 261 رنز کا ہدف عبور نہ کرسکی اور 29 رنز سے ہارگئی۔

اسی بارے میں