بیٹسمینوں نے مایوس کرنے کی قسم کھا رکھی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دوسرے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں دم توڑگئیں ہیں

پاکستانی بیٹسمینوں نے اپنے شائقین کو مایوس کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ایک اچھے آغاز کے بعد مڈل آرڈر بیٹنگ کی انتہائی غیرذمہ داری 22 رنز کی شکست کا سبب بن گئی اور یوں مسلسل دوسرے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔

پاکستان کو ایک اور شکست

نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل تیسرا میچ جیت kr ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔

بھارت کے خلاف اس نے 126 اور آسٹریلیا کے خلاف 142 رنز کا کامیابی سے دفاع کیا تھا لیکن پاکستان کے خلاف اس نے اس ٹورنامنٹ میں اپنا سب سے بڑا اسکور 180 رنز پانچ کھلاڑی بناکر بڑے اعتماد سے اس کا دفاع کر لیا۔

منزل تک پہنچنے کے لیے پاکستانی ٹیم کو ایک اچھی بنیاد کی ضرورت تھی جو شرجیل خان نے فراہم کردی۔

انھوں نے احمد شہزاد کے ساتھ صرف 33 گیندوں پر 61 رنز بنا ڈالے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہد آفریدی کے 16ویں اوور میں آؤٹ ہونے کے بعد آخری 31 گیندوں پر ایک بھی چوکا نہ لگ سکا

شرجیل خان نے پچھلی ناکامیوں کا غصہ نیوزی لینڈ کے بولرز پر بری طرح اتارا۔ انھوں نے صرف 25 گیندوں پر 47 رنز کی انتہائی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں نو چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔

ان کے جانے کے بعد پاکستان کی وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں اور کسی بھی بیٹسمین نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی زحمت ہی نہیں کی۔

شاہد آفریدی کے 16ویں اوور میں آؤٹ ہونے کے بعد آخری 31 گیندوں پر ایک بھی چوکا نہ لگ سکا۔

عمر اکمل جنھیں ہمیشہ اس بات کا گلہ رہتا ہے کہ انھیں بیٹنگ آرڈر میں اوپر بھیجا جائے اس میچ کو پاکستان کے حق میں ختم کرنے کی اچھی پوزیشن میں تھے لیکن ایک بار پھر اپنی غیرذمہ داری دکھا کر ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑگئے۔

سنہ 2012 کے بعد دوبارہ خالد لطیف کو انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کا فیصلہ بالکل ایسے ہی ناکام ثابت ہوا جیسے خرم منظور کو ایشیا کپ میں کھلانے کا۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ نے مسلسل تیسرے میچ میں ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیوزی لینڈ نے اس ٹورنامنٹ میں اپنا سب سے بڑا اسکور 180 رنز بناکر بڑے اعتماد سے اس کا دفاع کیا

نیوزی لینڈ کو پانچ وکٹوں پر 180 رنز تک لے جانے کا سہرا مارٹن گپٹل کے سرجاتا ہے جنھوں نے ایک اینڈ سے پاکستانی بولنگ پر حاوی ہوتے ہوئے دس چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 80 رنز کی شاندار اننگز بھی کھیلی اور ولیم سن اور کورے اینڈرسن کے ساتھ نصف سنچری شراکتیں بھی قائم کیں۔

گپٹل اور ولیم سن نے جن دس ٹی ٹوئنٹی میچوں میں اوپننگ کی ہے ان میں سے آٹھ میں انھوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 50 سے زائد رنز کی شراکت قائم کی ہے۔

نیوزی لینڈ کے اوپنرز یہ سوچ کر بیٹنگ کے لیے آئے تھے کہ پاکستانی ٹیم کے سب سے کامیاب اور موثر بولر محمد عامر کو سنبھلنے نہیں دینا اور اس حکمت عملی میں وہ پوری طرح کامیاب رہے۔

محمد عامر نے چار اوورز میں 41 رنز دے ڈالے۔

محمد عرفان نے پہلے اوور میں 13 رنز دینے کے بعد اگرچہ اپنے دوسرے اوور میں کپتان ولیم سن کی وکٹ حاصل کی لیکن اس کے بعد وہ بھی رنز کے بہاؤ میں بہہ گئے۔

محمد سمیع نے بھارت کے خلاف میچ کے بعد اس میچ میں بھی اچھی بولنگ کی اور مارٹن گپٹل اور لیوک رانکی کی وکٹیں حاصل کیں۔

وہاب ریاض کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے لیفٹ آرم اسپنر عماد وسیم نے بھی موثر بولنگ کرتے ہوئے چار اوورز میں 26 رنز دیے۔

کپتان شاہد آفریدی نے اگرچہ دو وکٹیں حاصل کیں لیکن ان کے چار اوورز میں دس رنز کی اوسط سے رنز بن گئے۔

اسی بارے میں