کس کے جانے کا وقت آ گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غالباً وقار یونس نے بھی ہوا کا رخ دیکھ لیا ہے۔

آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد کپتان، کوچ اور چیف سلیکٹر، تین ایسے عہدے ہیں جن پر تبدیلیاں یقینی دکھائی دے رہی ہیں۔

شاہد آفریدی کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد کپتان نہیں رہیں گے۔

خود شاہد آفریدی نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے بعد کہا تھا کہ آسٹریلیا کے خلاف میچ ممکنہ طور پر ان کا آخری انٹرنیشنل میچ ہوگا۔

اگر پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کو ہرا دیتی ہے اور سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر شاہد آفریدی کے کیریئر کےمزید کچھ دن بڑھ جائیں گے۔

وقار یونس کے بارے میں بھی اطلاعات یہی ہیں کہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد کوچ کے عہدے پر مزید کام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ غالباً انہوں نے بھی ہوا کا رخ دیکھ لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریار خان کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ غیرملکی کوچ لائیں

انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ وطن واپس جاکر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار کو ورلڈ ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی وجوہات سے آگاہ کریں گے اور اگر وہ ان کی نہیں سنتے تو یہ ان کی مرضی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان نے وقار یونس کو انگلینڈ کے دورے تک کوچ برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا لیکن اب ان کے ارادے بھی بدل چکے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وقاریونس کے مستقبل کا فیصلہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد کیا جائے گا۔

نئے کوچ کے طور پر عاقب جاوید کا نام لیا جا رہا ہے حالانکہ شہریار خان کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ غیرملکی کوچ لائیں اور اس سلسلے میں ٹام موڈی کا نام بھی سننے میں آیا ہے۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ چیف سلیکٹر ہارون رشید سلیکشن میں کیے گئے کئی غلط فیصلوں کے باوجود اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے، حالانکہ شہریار خان نے کہا تھا کہ یہ سلیکشن کمیٹی اب نہیں رہے گی۔

اسی بارے میں