سواریز: کل کا ولن، آج کا ہیرو

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سواریز کی اس عادت پر عالمی سطح پر شور اسی وقت بلند ہوا تھا جب انھوں نے اطالوی کھلاڑی کی ساتھ یہی حرکت کی

آپ کو یاد ہی ہو گا جب یوراگوئے سے تعلق رکھنے والے بارسلونا کے سٹرائیکر لوئس سواریز فٹبال کی دنیا کے سب سے زیادہ بدنام کھلاڑی بن گئے تھے۔

اس بدنامی کی وجہ وہ واقعہ تھا جب سنہ 2014 کے فٹبال کے ورلڈ کپ کے ایک میچ میں انھوں نے اٹلی کے جورجیو چیلینی کے کاندھے پر کاٹ لیا تھا۔

آج 20 ماہ گزرنے کے بعد نہ صرف سواریز پر لعن طعن کا سلسلہ رک گیا ہے بلکہ اب ہر دوسری شہ سرخی میں انھیں بارسلونا کے فاروڈ کھلاڑیوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

29 سالہ سواریز اب سنہ 2018 کے ورلڈ کپ کے سلسلے میں ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈ میں اپنا پہلا میچ آئندہ جمعے کو برازیل کے ساتھ کھیلیں گے۔ اطالوی کھلاڑی کے کاندھے میں دانت گاڑھنے کے واقعے کے بعد اب تک سواریز کے کریئر میں کئی اتار چڑھاؤ آ چکے ہیں۔

’کبھی درست نہ ہونے والا خطرناک دماغ‘

سنہ 2014 کے عالمی کپ سے پہلے بھی سواریز کے زندگی میں تنازعات کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اطالوی کھلاڑی سے پہلے وہ ایک اور مشہور کھلاڑی عثمان بکال کو کاٹ چکے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے چیلسی کے دفاعی کھلاڑی برانیسلاو ایونووِک کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا تھا۔

اور پھر اینفیلڈ کلب کے ساتھ معاہدے کے دوران سواریز ایک مخالف کھلاڑی پر نسل پرستانہ جملے کسنے کے الزام میں آٹھ میچوں کی پابندی بھی بھگت چکے تھے۔

لیکن سواریز کی اس عادت پر عالمی سطح پر شور اسی وقت بلند ہوا تھا جب انھوں نے اطالوی کھلاڑی کی ساتھ یہ حرکت کی۔

اس واقعے کے بعد بی بی سی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی خبر پر فی منٹ ایک لاکھ سات ہزار ٹویٹس ہوئی تھیں۔

Image caption میں اب بھی تکرار کروں گا، لیکن بہت زیادہ نہیں: سواریز

کیا وہ واقعی بدل گئے ہیں؟

کہتے ہیں کہ گذشتہ دو سالوں میں سواریز بہت بدل گئے ہیں۔ اس کا اظہار انھوں نے اپنے حالیہ کئی انٹرویوز میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ انھیں ان کے اچھے گولوں کی وجہ سے یاد رکھا جانا چاہیے نہ کہ بری چیزوں کی وجہ سے۔

آئندہ میچوں میں بھی ’میرا رویہ ویسا ہی ہو گا۔ میں اب بھی بہت تیز دوڑوں گا، مخالف کھلاڑیوں پر دباؤ ڈالوں گا، اب بھی دوسروں سے تکرار کروں گا، لیکن بہت زیادہ نہیں۔ میں اتنی ہی تکرار کروں گا جتنی میں آج کل بارسلونا کی جانب سے کھیلتے ہوئے کرتا ہوں۔‘

لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عام لوگ بھی سواریز کے ماضی کو بھول جائیں گے؟

برطانیہ کی شیفیلیڈ یونیورسٹی سے منسلک تلافی کے ماہر پروفیسر میکاسل کہتے ہیں کہ ’اگر وہ اچھے کھیل کا مظاہرہ کرتے ہیں تو لوگ ان سے رعایت برتیں گے۔

’سواریز ایک بہت ہی ٹیلنٹ والے کھلاڑی ہیں، اس لیے لگتا ہے کہ لوگ ان کے ماضی کو عقلی بنیاد پر دیکھیں گے۔ اس کے علاوہ لوگ مختلف جرائم میں تمیز کر سکتے ہیں۔ کسی کے کاندھے پر کاٹنا اگرچہ احمقانہ بات ہے لیکن لوگ جانتے ہیں کہ یہ کوئی ایسا جرم نہیں جس کی بنیاد پر آپ کو عدالت میں لے جایا جا سکتا ہے۔‘

’لوگوں کے لیے بڑے جرائم کو معاف کرنا مشکل ہوتا ہے، ماضی کی بری عادتوں کو نہیں۔‘

اسی بارے میں