کشمیری نوجوان پاکستانی ٹیم کے دیوانے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بے حد مقبول ہے اور وہاں سے تعلق رکھنے والے نوجوان شائقین کی ایک بڑی تعداد موہالی میں موجود ہے۔

یہ نوجوان نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے موقع پر بھی موہالی کے آئی ایس بندرا سٹیڈیم میں موجود تھے اور آسٹریلیا کے خلاف میچ میں بھی اسی جوش و جذبے کے ساتھ نظر آئے۔

کشمیر کا ذکر کیوں کیا؟ آفریدی پر تنقید

ان نوجوانوں کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اور پلے کارڈ تھے جن پر شاہد آفریدی کے حق میں نعرے درج تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی ٹیم نے موہالی میں بھارت کے خلاف میچ کھیلا تھا

یہ نوجوان میچ شروع ہونے سے کافی دیر پہلے ہی سٹیڈیم کے باہر جمع ہو چکے تھے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔

بعد میں ان نوجوانوں نے سٹیڈیم کے سٹینڈ میں بھی جگہ سنبھال لی اور جب شاہد آفریدی ٹاس کے لیے آئے تو ان کا زبردست تالیوں اور نعروں سے خیرمقدم کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption موہالی میں بھارت کے خلاف میچ میں شاہد آفریدی نے بھی کشمیری شائقین کرکٹ کا ذکر کیا تھا

شاہد آفریدی کشمیری نوجوانوں کے پسندیدہ ترین کرکٹر ہیں جب سٹیڈیم کی سکرین پر دونوں ٹیموں کے کرکٹرز کا تعارف ان کی تصویروں کے ساتھ کرایا جارہا تھا تو اس وقت بھی سب سے زیادہ تالیاں اس وقت بجیں جب سکرین پر شاہد آفریدی کی تصویر نمایاں ہوئی اور ان کا نام پکارا گیا۔

یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے موقع پر شاہد آفریدی نے رمیز راجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کشمیر کے شائقین کی طرف سے حمایت کا ذکر کیا تھا جس پر بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نے تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ آفریدی کو سیاسی بیانات سے پرہیز کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں