پاکستانی لڑکیاں دل تو جیت ہی چکی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انٹرنیشنل کرکٹ نہایت کم کھیلنے کے باوجود پاکستانی ٹیم نے بھارت اور بنگلہ دیش کو دہلی میں شکست دی

’ہمیں کرکٹ کے میدان کے اندر اور باہر بہت سے محاذوں پر جنگ کرنا پڑی۔ لگ بھگ گذشتہ 20 سالوں میں جتنی بھی لڑکیوں نے کرکٹ کھیلی ہے یہ ان سب کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں جس طرح ویمنز کرکٹ کو سراہا جا رہا ہے اس سے پہلے ایسا نہ تھا۔‘

یہ بات پاکستان کی ویمنز ٹیم کی کپتان ثنا میر نے یہ بات بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

پاکستانی ویمنز ٹیم نے اپنے ٹی 20 ٹورنامنٹ کا آغاز بھارتی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چینئی سے کیا۔ اس وقت وہ ایک ایک گمنام ویمنز ٹیم تھی جس میں زیادہ پاکستانیوں کو دلچسپی نہ تھی۔

مگر باقی ٹیمز کے مقابلے میں بہت کم انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے باوجود پاکستانی ٹیم نے بھارت اور بنگلہ دیش کو دہلی میں شکست دی۔

اب جب ٹیم چنئی پہنچی ہے تو بیشتر پاکستانیوں کی نظریں پاکستان اور انگلینڈ کی ویمنز ٹیم کے درمیان چنئی میں ہونے والے میچ پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستانی سوشل میڈیا کے ذریعے کھلاڑیوں کو جیت کی امید کے پیغامات بھجوا رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی خواتین کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کے اتنے قریب پہنچی ہے۔ اور مردوں کی ٹیم کی مایوس کن کارگردگی کے بعد اب سب امیدیں ویمنز ٹیم سے جڑی ہیں۔

سنہ 1990 کی دہائی میں پاکستان میں جب ویمنز کرکٹ کا آغاز ہوا تو حکومت نے خواتین کھلاڑیوں کو کرکٹ کھیلنے سے منع کر دیا اور موقف اپنایا کہ مسلمان لڑکیاں گھر سے باہر نہیں کھیل سکتیں۔ اور اب سیمی فائنلز کے اتنا قریب پہنچ کر ان کی گم نامیوں سے شہرت تک کا یہ سفر قبل فخر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کپتان ثنا میر کہتی ہیں کہ ان کے حوصلے بلند ہیں

پاکستان کی بولر انعم امین کہتی ہیں ’میرا کرکٹ کھیلنا امی کو پہلے بالکل پسند نہیں تھا مگر اب وہ ہر میچ سے پہلے کہتی ہیں دو تین وکٹیں لے کر آنا۔‘ انعم امین اب تک کی سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والی پاکستانی کھلاڑی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ آج کے میچ میں اپنی امی اور پاکستانیوں کی خواہش پوری کرنے کی مکمل کوشش کریں گی۔

ثنا میر کہتی ہیں: ’میں پاکستانی عوام کو مبارک باد دینا چاہوں گی کہ انھوں نے ویمنز کرکٹ کو نا صرف تسلیم کیا ہے بلکہ پوری طری ہمیں سپورٹ بھی کر رہی ہے جس سے ہمارے حوصلہ اور بھی بلند ہوئے ہیں۔ پاکستانیوں اور ان والدین کا شکریہ جنھوں نے اپنی بیٹیوں کے کرکٹ کھیلنے کی راہ ہموار کی۔‘

پابندیوں کی تاریکی سے شروع کیا گیا پاکستانی ویمنز کرکٹ ٹیم کا سفر ابھی جاری ہے۔ چاہے وہ ہارے یا جیتے ان کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ انھوں نے بالآخر پاکستانیوں کا دل جیت لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں ہونے والے اس ٹی 20 ٹورنامنٹ کو پاکستانی ویمنز کرکٹ ٹیم کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اسی بارے میں