پی سی بی انکوائری کمیٹی، یونس اور مصباح نہیں آئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ٹی ٹوئنٹی اور ایشیا کپ میں قومی کرکٹ کی شکست کی وجوہات جاننے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کا اجلاس قذافی سٹیڈیم میں ہوا۔

لاہور سے صحافی این اے خان نے بتایا کہ پی سی بی کی جانب سے تشکیل کردہ پانچ رکنی کمیٹی کے صرف تین ارکان شکیل شیخ، اقبال قاسم اور سبحان احمد اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ سابق کپتان یونس خان اور مصباح الحق اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

٭ کس کے جانے کا وقت آ گیا؟

انکوائری کمیٹی نے سابق کرکٹرز محسن حسن خان، محمد یوسف، توصیف احمد اور جلال الدین کو بھی مشاورت کے لیے بلایا تھا لیکن ان میں سے بھی کوئی اجلاس میں نہیں پہنچا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس اور فیلڈنگ کوچ گرانٹ لڈن انکوائری کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے اور شکست کی وجوہات بیان کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

کپتان شاہد آفریدی نے لاہور آنے کی بجائے ٹیلی فون پر کمیٹی کے سوالات کا جواب دیں گے۔

کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز بھی جاری رہے گا جس میں بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

تاہم کپتان شاہد آفریدی کے بارے میں معلوم ہوا کہ انہوں نے کمیٹی کو اپنی عدم موجودگی سے آگاہ کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بیٹی کی بیماری کی وجہ سے لاہور نہیں آسکتے اس لیے وہ ٹیلی فون پر کمیٹی کو اپنا جواب دیں گے۔

میڈیا کو کمیٹی کے اجلاس کی کوریج نہیں کرنے دی گئی اور نہ ہی کمیٹی کے کسی رکن نے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے کوئی گفتگو کی۔

یہ کمیٹی ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی تھی جو اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی ٹیم کی خراب کارکردگی کا جائزہ لے رہی ہے۔

کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو بھی ہوگا جس کے بعد کمیٹی اپنی رپورٹ مرتب کرکے کرکٹ بورڈ کو پیش کردے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وقار یونس منگل کے روز لاہور میں پریس کانفرنس بھی کرنے والے ہیں

وقار یونس نے پاکستانی ٹیم کی وطن واپسی کے فوراً بعد لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان سے ملاقات کی تھی جس میں انھوں نے ورلڈ ٹوئنٹی میں ٹیم کی کارکردگی سے متعلق اپنی رپورٹ ان کے حوالے کی۔

واضح رہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف اپنا پہلا میچ جیتنے کے بعد بھارت، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف میچز ہارگئی اور مسلسل دوسرے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں سیمی فائنل میں نہ پہنچ سکی۔

یاد رہے کہ کوچ وقاریونس نے آسٹریلیا سے شکست کے بعد بی بی سی کے استفسار پر کہا تھا کہ وہ پاکستان جا کر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار سے بات کریں گے اس کے بعد ہی اصل صورتحال واضح ہو سکے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے وقار یونس کو انگلینڈ کے دورے تک کوچ برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا لیکن اب ان کے ارادے بھی بدل چکے ہیں۔

نئے کوچ کے طور پر عاقب جاوید کا نام لیا جا رہا ہے حالانکہ شہریار خان کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ غیرملکی کوچ لائیں اور اس سلسلے میں ٹام موڈی کا نام بھی سننے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں