زبردست مقابلے کے بعد انگلینڈ کی 5 رنز سے شکست

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریلیا کی خواتین کی ٹیم کی نظر ورلڈ ٹی 20 میں اپنی چوتھی مسلسل فتح پر ہے

خواتین کے ٹی 20 وررلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد شکست دے دی ہے۔

دہلی میں کھیلا گیا یہ میچ ورلڈ ٹی 20 میں آسٹریلیا کے ہاتھوں انگلینڈ کی تیسری مسلسل شکست ہے۔

آسٹریلیا کی فتح میں انگلینڈ کی بُری فیلڈنگ کا کردار اپنی جگہ لیکن اس فتح کا سہرا میگ لسننگ کے 55 رنز اور ایلیسا ہیلی کی 25 رنز کی دھواں دہار بیٹنگ کے سر جاتا ہے جنھوں نے آسٹریلیا کو مقررہ 20 اووروں میں 6 وکٹوں کے عوض 132 کا ٹوٹل فراہم کیا۔

133 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی کپتان شارلیٹ ایڈورڈز کے 31 رنز اور ٹیمی بیمونٹ کی 32 رنز کی اننگز نے انگلینڈ کو پہلے دس اووروں میں 67 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا تھا۔

لیکن ان کے بعد آنے والی انگلینڈ کی بلے باز اس آغاز سے فائدہ نہ اٹھا سکیں اور انگلینڈ کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گرتی رہیں۔ جب 20ویں اوور کی آخری گیند پھینکی گئی تو انگلینڈ کی 7 وکٹیں گر چکی تھیں اور ان کا ٹوٹل 127 تھا، یوں انگلینڈ یہ سیمی فائنل 5 رنز سے ہار گیا۔

آسٹریلیا کی خواتین کی ٹیم کی نظر ورلڈ ٹی 20 میں اپنی چوتھی مسلسل فتح پر ہے اور ان کا مقابلہ نیوزی لینڈ یا ویسٹ انڈیز کے ساتھ اس اتوار کو کولکتہ میں ہوگا۔

انگلینڈ کی خواتین آخری مرتبہ ورلڈ ٹی 20 کی فائنل میں سنہ 2010 میں پہنچی تھیں۔

میچ کے اختتام پر انگلینڈ کی کپتان شارلٹ ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم اور آسٹریلیا کی ٹیم ایک دوسرے کے بارے میں ہر بات جانتے ہیں اور سچ یہی ہے کہ آج انھوں نے اپنے حواس پر قابو رکھا اور ہم نہ رکھ سکیں۔ اور شاید آج کی کارکردگی میں دونوں ٹیموں میں یہی فرق تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شاید فتح آج ہماری قسمت میں نہیں تھی: شارلٹ ایڈورڈز

’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری بولنگ بہت زبردست نہیں تھی، لیکن بیٹنگ کرتے ہوئے ہم دوبارہ فتح کے راستے پر آ گئے تھے، لیکن ہم ایک مرتبہ پھر اس راستے سے بھٹک گئیں۔ میچ کے آخر میں ایک مرتبہ پھر ہماری بیٹنگ میں فتح کے اشارے نظر آئے، لیکن شاید فتح آج ہماری قسمت میں نہیں تھی۔‘

اس موقعے پر آسٹریلیا کی کپتان میگ لیننگ کا کہنا تھا ’ہمیں معلوم تھا کہ پاور پلے کے اوور سب سے اہم کردار ادا کریں گے اور ایک اچھے آغاز کے بعد ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ ہمیں اس میچ میں برتری حاصل ہو چکی ہے۔ ہمیں معلوم تھا کہ جب بال نرم ہو جائے گی تو اتنی تیزی سے سکور نہیں ہو سکے گا، اس لیے ہم نے پاور پلے سے خوب فائدہ اٹھایا۔

’بعد میں ہماری طرف سے بولنگ کا آغاز کچھ اچھا نہیں تھا، لیکن اس کے بعد ہم نے میدان میں دوڑ کر کئی رنز بچائے اور مسلسل وکٹیں گرائیں۔‘

انگلینڈ کے کوچ مارک رابنسن کے بقول ’یہ میچ بہت ہی اہم تھا۔ اگر ہم صرف پانچ رنز زیادہ بنا لیتے تو بات بن جاتی۔‘

اسی بارے میں