ٹی 20 میں صرف بولرز پر انحصار کب تک؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کی ٹیمیں زیادہ تر انحصار اپنی بیٹنگ پر کر ہی ہیں

آئی سی سی ورلڈ ٹی20 کے فائنل میچ میں اتوار کی شام کو کولکتہ کے ایڈن گارڈن میں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کی ٹیمیں مدِ مقابل ہو رہی ہیں۔

یہ دونوں ہی ٹیمیں زیادہ تر انحصار اپنی بیٹنگ پر کر رہی ہیں۔

ویسٹ انڈیز نے انڈیا کے خلاف سیمی فائنل میں 192 اور سپر 10 مرحلے میں انگلینڈ کے خلاف 182 رنز کا ہدف عبور کیا تھا۔ دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف سپر 10 مرحلے میں 229 رنز کا ایک بڑا ہدف عبور کرنے کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں 153 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

اس سے یہ بات تو صاف ظاہر ہو رہی ہے کہ دنیائے کرکٹ کی تقریباً تمام ٹیمیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ ٹی 20 کرکٹ بولرز کا کھیل نہیں ہے اور زیادہ سے زیادہ بلے باز یا آل راؤنڈرز کو ٹیم میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ویسٹ انڈیز نے انڈیا کے خلاف سیمی فائنل میں 192 اور سپر 10 مرحلے میں انگلینڈ کے خلاف 182 رنز کا ہدف عبور کیا تھا

تو پھر پاکستان کرکٹ ٹیم یہ بات کیوں نہیں سمجھ پائی ہے؟

پہلے ٹی 20 ایشیا کپ اور پھر ورلڈ ٹی 20 میں بھی پاکستان ٹیم یہ مان کر میدان میں اتری تھی کہ اس کے پاس دنیا کے بہترین بولرز ہیں جو اسے جتوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ٹی 20 ایشیا کپ میں بنگلہ دیش اور بھارت سے ہارنے کے بعد پاکستان اس ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا اور پھر ورلڈ ٹی 20 میں صرف بنگلہ دیش سے جیت کر پاکستانی ٹیم سپر 10 مرحلے سے ہی واپس آگئی۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں اختلافات تھے یا نہیں؟ ٹیم میں گروپ بنے ہوئے تھے یا نہیں؟ کوچ اور کپتان میں کوئی دوری تھی یا نہیں؟ ان تمام سوالات کے جوابات تو پی سی بی کی تحقیقاتی کمیٹی آئندہ چند روز میں دے ہی دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان ٹیم کب تک یہی سوچتی رہے گی کہ اس کے پاس دنیا کے بہترین بولرز ہیں اور اسے بلے بازوں کی ضرورت نہیں ہے

چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ پھر بھی پاکستان ٹیم کب تک یہی سوچتی رہے گی کہ اس کے پاس دنیا کے بہترین بولرز ہیں اور اسے بلے بازوں کی ضرورت نہیں ہے۔

پاکستانی بولرز کی آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں کارکردگی پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی بولرز اس ٹورنامنٹ میں کتنے خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔

ورلڈ ٹی 20 میں پاکستان کی جانب سے سب سے کامیاب بولر شاہد آفریدی رہے جنھوں نے چار میچوں میں چار وکٹیں حاصل کیں اور وہ اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولرز کی فہرست میں 30ویں نمبر پر ہیں۔

ان کے بعد محمد سمیع تین وکٹیں لے کر 38 ویں اور عماد وسیم 52ویں نمبر ہیں۔ محمد عامر 55ویں اور وہاب ریاض 56ویں پوزیشن پر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین بولرز ہیں تو انھوں نے پرفارمنس کیوں نہیں دی اور پاکستان کے پاس دنیا بہترین بلے باز کب آئیں گے؟

اب شاید وقت آگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور سلیکشن کیمٹی کے ساتھ ساتھ کپتان بھی اس بات کو تسلیم کر لے کہ کرکٹ بدل چکی ہے اور صرف یہ مان کر میدان میں اترنا صحیح نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین بولرز ہیں۔

اسی بارے میں