وقار یونس اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقاریونس نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

پیر کے روز انھوں نے اپنے مستعفی ہونے کا اعلان لاہور میں صحافیوں کے سامنے کیا۔

وقاریونس نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بنایا جانا تھا لہذا وہ چاہتے ہیں کہ عزت سے یہ عہدہ چھوڑ دیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایمانداری سے 19 ماہ اپنی ذمہ داری نبھائی۔

وقاریونس نے کہا کہ ان کے عہدے کی مدت میں ابھی تین ماہ باقی تھے تاہم وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے گزارش کریں گے کہ ان کے بقایاجات کی رقم پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کی بہتری کے لیے خرچ کردی جائے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ جب وہ کوچ کا عہدہ چھوڑ کرگئے تھے تو اس وقت کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ اعجاز بٹ روئے تھے جبکہ اس مرتبہ وہ خود رو رہے ہیں۔

وقار یونس کے مطابق ان کے استعفی کا سبب ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی 20 میں ٹیم کی خراب کارکردگی نہیں ہے۔

یاد رہے کہ وقار یونس سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا معاہدہ اس سال مئی میں ختم ہو رہا تھا۔ تاہم چند ماہ قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے یہ کہا تھا کہ وقار یونس رواں سال جون میں انگلینڈ کے دورے تک کوچ رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وقار یونس کا کہنا ہے کہ ان کے استعفی کا سبب ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی 20 میں ٹیم کی خراب کارکردگی نہیں ہے

لیکن ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی 20 میں ٹیم کی خراب کارکردگی کے بعد بورڈ نے جو کمیٹی بنائی تھی اس کی سفارشات کا ابھی اعلان ہونا باقی ہے تاہم اس سے پہلے ہی وقار یونس نے اپنے بارے میں خود ہی فیصلہ کرلیا۔

وقاریونس سنہ 2014 میں دوسری مرتبہ پاکستانی ٹیم کے کوچ دو سال کے لیے مقرر کیے گئے تھے۔

ان کی کوچنگ میں پاکستانی ٹیم نے آسٹریلیا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف چار ٹیسٹ سیریز جیتیں۔جبکہ نیوزی لینڈ سے سیریز برابر رہی اور سری لنکا سے ایک ٹیسٹ سیریز میں اسے شکست ہوئی۔

مجموعی طور پر پاکستانی ٹیم نے ان کی کوچنگ میں15 میں سے 8 ٹیسٹ جیتے 4 ہارے اور 3 برابر رہے۔

وقاریونس کے ہوتے ہوئے پاکستانی ٹیم ون ڈے اور ٹی 20 میں خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی۔

ورلڈ کپ میں وہ کوارٹر فائنل تک پہنچ سکی جبکہ ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی 20 میں وہ سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہی۔

ایک روزہ میچوں میں ان کوچنگ میں قومی ٹیم نے39 میں سے صرف 15 میچز جیتے اور 22 ہارے، دو میچز نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔

ٹی 20 میں پاکستانی ٹیم 24 میں سے صرف 11 میچ جیت سکی اور 13 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مجموعی طور پر پاکستانی ٹیم نے ان کی کوچنگ میں15 میں سے 8 ٹیسٹ جیتے 4 ہارے اور 3 برابر رہے

وقار یونس نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد وطن واپسی پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کی تھی اور اپنی رپورٹ ان کےحوالے کی تھی۔

یہ رپورٹ فوراً ذرائع ابلاغ کی زینت بن گئی جس کے بعد سے وقار یونس نے متعدد ٹی وی چینلز میں بیٹھ کر پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جس پر کرکٹ بورڈ سخت ناراض تھا۔

وقاریونس کے بعد منیجر انتخاب عالم کی رپورٹ بھی میڈیا میں آگئی جس سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی پوزیشن خاصی خراب ہوئی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے بھی اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔

دونوں رپورٹس کے میڈیا میں آجانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کہتے ہیں کہ یہ رپورٹس کوچ اور منیجر کی خواہش پر میڈیا کے حوالے کی گئی ہیں جبکہ وقاریونس نےاس کا الزام کرکٹ بورڈ پر ڈال دیا تھا۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد پاکستانی ٹیم کی اگلی مصروفیت جون میں ہے جب وہ انگلینڈ کا دورہ کرے گی۔

اسی بارے میں