میچ رپورٹنگ سے زیادہ پولیس رپورٹنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سب سے پریشان کن بات یہ تھی کہ جس روز پاکستان اور بھارت کا کولکتہ میں اہم ترین میچ تھا

دو فلائٹس کا تاخیر کا شکار ہونا، ایک فلائٹ کا منسوخ ہوجانا، سامان کا کھو جانا، یہ سب کچھ میرے لیے قابل برداشت تھا کیونکہ سفر میں آپ کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا پڑتا ہے۔

لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی کوریج کے بھارتی سفر میں سب سے تکلیف دہ پہلو پولیس کے فارن رجسٹریشن آفس ( ایف آر او ) کے چکر لگانا تھا۔

ماضی میں کرکٹ کی کوریج کے لیے بھارت جانے والے پاکستانی صحافیوں کے ویزے پولیس رپورٹنگ سے مبرا رہے تھے۔ جس کا فائدہ انھیں یہ ہوتا تھا کہ وہ یکسوئی سے اپنی صحافتی ذمہ داری نبھاتے رہتے تھے۔

تاہم اس بار ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی کوریج کے لیے بھارت جانے والے ہر پاکستانی صحافی کے پاسپورٹ پر ’پولیس رپورٹنگ ریکوائرڈ‘ درج کر کے انھیں یہ باور کروا دیا گیا تھا کہ اس بار میچز کی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ آپ کو پولیس رپورٹنگ بھی کرنی پڑے گی۔

یہ پولیس رپورٹنگ اس لیے بھی تکلیف دہ تھی کہ ہر پاکستانی صحافی کو ہر شہر میں پہنچنے کے 24 گھنٹے کے اندر، اندر شہر کے فارن رجسٹریشن آفس میں جاکر اپنی آمد کی اطلاع دینی تھی۔

شہر چھوڑنے کے 24 گھنٹے کے اندر دوبارہ اسی دفتر جاکر یہ بتانا پڑتا تھا کہ صاحب جی! اب ہم آپ کے شہر سے کوچ کر رہے ہیں جس پر متعلقہ افسر سرکاری لیٹر پر مہر لگا کر اگلے شہر کے افسر کو مطلع کرتا تھا کہ پاکستانی صحافی اب آپ کے حوالے۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی کوریج کرنے والے پاکستانی صحافیوں اور کمنٹیٹرز کو دہلی، کولکتہ اور موہالی کے پولیس سٹیشنز میں دو، دو بار یہ حاضری لگانی پڑی۔

اگر پاکستانی ٹیم دھرم شالہ میں میچ کھیل لیتی تو صحافیوں کو وہاں کے پولیس سٹیشن کا دیدار بھی دو بار نصیب ہو جاتا۔

بھارتی ہوٹلوں پر یہ لازم ہے کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ کے حامل کسی بھی شخص کو کمرہ دیتے ہی اس کے بارے میں مکمل تفصیل سے اپنے علاقے کے پولیس تھانے کو فوراً اطلاع دیں۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی کوریج کے لیے بھارت گئے کچھ پاکستانی صحافی یہ شکایت کرتے ہوئے پائے گئے کہ انھیں کچھ ہوٹل والوں نے کمرہ دینے سے انکار کردیا جس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ ہوٹل کے پاس متعلقہ تھانے کو آن لائن مطلع کرنے کی سہولت نہیں ہے۔

سب سے پریشان کن بات یہ تھی کہ جس روز پاکستان اور بھارت کا کولکتہ میں اہم ترین میچ تھا اسی روز پاکستانی صحافی ایف آر او میں حاضری دینے کے لیے موجود تھے کیونکہ میچ کے اگلے ہی روز انھیں کولکتہ سے موہالی کے لیے روانہ ہونا تھا۔

اگر آئی سی سی چاہتی تھی تو وہ پاکستانی صحافیوں کو دیے گئے ویزوں میں پولیس رپورٹنگ کی شرط کو ختم یا نرم کروا سکتی تھی کیونکہ یہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی آئی سی سی کا اپنا ایونٹ تھا اور اس ایونٹ کی کوریج کرنے والے تمام صحافیوں کی منظوری آئی سی سی نے دی تھی۔

ظاہر ہے اس کے پاس تمام صحافیوں کی فہرست موجود تھی جو وہ بی سی سی آئی کے توسط سے بھارتی وزارت داخلہ سے منظور کروا کر ان صحافیوں کو پولیس رپورٹنگ کی شرط سے مبرا کرسکتی تھی لیکن ایسا نہ ہوا۔

اسی بارے میں