’آخری اوور میں چار چھکے مکمل تباہی تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’یہ دھچکا انھیں طویل عرصے کے لیے ایک بہترین کھلاڑی بنا دے گا‘

انگلینڈ کے کرکٹ کھلاڑی بین سٹوکس کے مطابق جب ورلڈ ٹی 20 کے فائنل کے آخری اوور میں انھیں لگا تار چار چھکے پڑے تو ایسے لگا کہ ان کی ساری دنیا ہل کر رہ گئی ہے۔

ویسٹ انڈیز کے بیٹسمین کارلوس بریتھویٹ نے بین سٹوکس کو ٹی 20 کے فائنل میں چار گیندوں پر لگا تار چار چھکے مار کر اپنی ٹیم کو ٹی 20 کرکٹ کا چیمپئن بنا دیا تھا۔

* خوف سے مبرا ٹیم

بین سٹوکس نے برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو بتایا’مجھے لگا کہ میں نے ابھی ابھی ورلڈ کپ کھو دیا ہے، مجھے اس پر یقین نہیں آ رہا تھا، یہ مکمل طور پر تباہ کن تھا۔‘

24 سالہ بین سٹوکس کے مطابق انھیں یقین ہے کہ یہ دھچکا انھیں طویل عرصے کے لیے ایک بہترین کھلاڑی بنا دے گا۔

’مایوسی اس وقت سب سے بڑا احساس ہے، مجھے یاد ہے جب میڈل ملا تو میں نے سوچا کہ یہ صرف دوسری پوزیشن پر آنے کے لیے ہے اور یہ آپ نہیں چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کارلوس بریتھویٹ نے بین سٹوکس کو ٹی 20 کے فائنل میں چار گیندوں پر لگا تار چار چھکے مارے

انھوں نے مزید کہا کہ’ یہ کسی حد تک ترغیب دے گا کہ ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔‘

بین سٹوکس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان کے ساتھی کھلاڑی براڈ اور کک ساتھ دے رہے ہیں اور ان سے کہا ہے کہ انھیں انگلینڈ کی جانب سے آخری اوور میں دوبارہ بولنگ کرنے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

سٹوکس کے مطابق’ یہ ایسی چیز ہے جس میں بہت محنت کی، کسی دن اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں اور کسی دن نہیں، وہ ایک خراب دن تھا لیکن میں شرم محسوس کر کے اس سے دور نہیں رہوں گا۔‘

بین سٹوکس نے میچ کے بعد ویسٹ انڈیز کے بیٹسمین کارلوس بریتھویٹ کے رویے کی تعریف کرتے ہوئے انھیں زبردست شخص قرار دیا۔

’ہم نے اس کے بعد ان کے ساتھ بیئر نہیں پی لیکن بریتھویٹ میرے پاس آئے اور شرٹ کے لیے کہا۔ میں لازمی ان سے بات کرنا چاہتا تھا اور تعریف کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ لوگ مجھے تلخ سمجھیں۔ میں نے انھیں آل دی بیسٹ کہا، یہ مخالف ٹیم کا احترام کرنے سے متعلق ہے کیونکہ جو پچ پر ہو اسی تک رہنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں