کیا سلمان بٹ کو انگلینڈ کا ویزا مل پائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سلمان بٹ نے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر کے توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے

اگر پاکستان نے چھ سال پہلےانگلینڈ کے دورے کےدوران سپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا پانے والےسلمان بٹ کو دوبارہ ٹیم میں شامل کرکے انگلینڈ بھیجنے کی کوشش کی تو شاید برطانوی قانون اس کی اجازت نہیں دے گا۔

سلمان بٹ کو 2011 میں برطانوی عدالت نے سپاٹ فکسنگ کے الزام میں 30 ماہ قید کی سزا سنائی تھی لیکن انھیں برطانوی حکومت کی ایک سکیم کے تحت صرف سات ماہ کی قید کے بعد رہائی دے کر پاکستان بھیج دیاگیا تھا۔

پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے حالیہ دنوں میں سلمان بٹ کی ٹیم میں واپسی میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

کرکٹ کی مشہور ویب سائٹ کرک انفو کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ویزا قوانین کے تحت اگر کسی شخص کو 12 ماہ سے لے چار سال تک کی سزا سنائی گئی ہو تو ویزا انٹری کلیرنس آفیسر کے لیے لازم ہے کہ وہ دس برس تک اس کی ویزا درخواست کو مسترد کر دے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عامر ایک بار ٹیم کا حصہ بن چکے ہیں

جیل سے جلدی رہائی کی سکیم کے تحت رہا ہونے والے افراد کو قانون کی نظر میں ملک بدر ہی سمجھا جاتا ہے اور وہ سزا کی مدت کے خاتمے کے دس سال تک واپس برطانیہ میں آنے کے اہل نہیں ہیں۔

قانون کی نظر میں قید کی مدت کے خاتمہ اس تاریخ سے تصور کیا جاتا ہے جب عدالت کی جانب سے دی جانی والی سزا کی مدت پوری ہو گی اور حکومت کی کسی سکیم کے تحت جلد رہائی کی تاریخ کو ’مدت کے خاتمے کی تاریخ‘ تصور نہیں کیا جائے گا۔

برطانیہ نے مجرموں کی برطانوی سرزمین پر واپسی سے متعلق قانون میں ترمیم 2012 میں کی گئی تھی۔ اس قانون کا پہلا اطلاق باکسر مائیک ٹائسن پر ہوا جب انھیں 2013 میں برطانیہ آنے سے روک دیاگیا کیونکہ وہ ریپ کے جرم میں قید کی سزا پوری ہونے کے ابھی تک دس برس نہیں ہوئے ہیں۔

سلمان بٹ پر کرکٹ سے متعلق تمام مصروفیات پر آئی سی سی کی پابندی رواں سال کے شروع میں ہی ختم ہو چکی ہے۔ 31 سالہ بٹ نے حالیہ ون ڈے کپ میں عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 536 رنز بنائے اور بعض اطلاعات کے مطابق پاکستان کےسابق کوچ وقار یونس انھیں ٹیم میں واپس لانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ وقار یونس اب کوچ کےعہدے سے مستعفیٰ ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے کپتان مصباح الحق نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ ٹیسٹ ٹیم میں نمبر تین سے سات تک بیٹنگ پوزیشن مستحکم ہے لیکن اوپننگ جوڑی ابھی زیرِ غور ہے۔ انھوں نے کہا کہ شان مسعود اور سلمان بٹ کے ناموں پر غور ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد آصف بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ لے رہے ہیں لیکن ابھی وہ ٹیسٹ ٹیم میں واپسی سے دور ہیں

سلمان بٹ کے علاوہ نوجوان فاسٹ بولر محمد عامر کی پانچ سال بعد کرکٹ کے میدانوں میں واپسی ہو چکی ہے اور وہ نیوزی لینڈ کے علاوہ بنگلہ دیش میں ہونےوالے ایشا کپ اور انڈیا میں منعقد ہونے والے ورلڈ ٹی 20 کپ میں شریک ہو چکے ہیں۔

محمد عامر کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن انھیں بھی تین ماہ بعد رہا کر دیاگیا تھا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ نیوزی لینڈ اور انڈیا کی جانب سے ویزا ملنے کے بعد انھیں برطانیہ کا ویزا بھی مل پائےگا یا نہیں۔

محمد عامر نے 2014 میں برطانیہ کے ویزے کے لیے درخواست دی تھی جو مسترد کر دی گئی تھی۔

سپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا پانے والے تیسرے کھلاڑی محمد آصف پر سے پابندی ختم ہو چکی ہے لیکن وہ ابھی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کے قریب نہیں پہنچ پائے ہیں۔

اسی بارے میں