’چیمپیئنز ٹرافی سے پاکستانیوں کا دیرینہ لگاؤ ہے‘

Image caption سنہ 1978 میں لاہور میں کھیلی گئی پہلی چیمپیئنز ٹرافی پاکستانی ہاکی ٹیم نے جیتی تھی اور اس فاتح ٹیم کے کپتان اصلاح الدین تھے

پاکستان کے سابق ہاکی اولمپیئن اصلاح الدین نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی جانب سے چیمپیئنز ٹرافی ورلڈ ہاکی ٹورنامنٹ کو ختم کرنے کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن سے اس پر احتجاج کرتے ہوئے یہ چیمپیئنز ٹرافی واپس لے اور خود یہ ٹورنامنٹ شروع کردے۔

واضح رہے کہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے گذشتہ دنوں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ چیمپیئنز ٹرافی ختم کر کے اس کی جگہ گلوبل لیگ شروع کرنے والی ہے۔

پاکستان نے چیمپیئنز ٹرافی سنہ 1978 میں شروع کی تھی اور اس کی خوبصورت ٹرافی بھی پاکستان نے تیار کرکے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کو دی تھی۔

سنہ 1978 میں لاہور میں کھیلی گئی پہلی چیمپیئنز ٹرافی پاکستانی ہاکی ٹیم نے جیتی تھی اور اس فاتح ٹیم کے کپتان اصلاح الدین تھے۔

اصلاح الدین نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر ایف آئی ایچ کو کوئی ٹورنامنٹ ختم کرنا ہی ہے تو وہ کسی نان رینکنگ ٹورنامنٹ کو ختم کرے ۔ چیمپیئنز ٹرافی نہ صرف یہ کہ ایک اہم رینکنگ ٹورنامنٹ ہے بلکہ اس سے پاکستانیوں کے دیرینہ جذبات وابستہ ہیں۔

پاکستان کے سابق ہاکی اولمپیئن کا کہنا ہے کہ ایف آئی ایچ بین الاقوامی ہاکی کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ وہ نئے ایونٹس شروع کر رہی ہے لیکن جو ٹورنامنٹس اور خاص کر چیمپیئنز ٹرافی جیسا اہم ایونٹ پہلے سے موجود ہیں اسے ختم کرنا کسی طور مناسب نہیں۔

اصلاح الدین نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ خود چیمپیئنز ٹرافی شروع کرنے کا بیڑا اٹھائے کیونکہ یہ ٹورنامنٹ دراصل پاکستان نے ہی شروع کیا تھا جس میں صف اول کی ٹیمیں حصہ لیا کرتی تھیں۔

اصلاح الدین نے اس سال لندن میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت کی دعوت قبول نہ کرنے کے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے فیصلے پر سخت حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو وائلڈ کارڈ انٹری کی وجہ سے اس بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لینے کا موقع مل رہا تھا لیکن فیڈریشن نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا حالانکہ اس میں شرکت کر کے پاکستانی کھلاڑیوں کو فائدہ ہی ہونا تھا نقصان نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان ہاکی فیڈریشن یہ کہتی ہے کہ وہ ٹیم کی تشکیل نو میں مصروف ہے تو پھر شکست کا خوف کیوں؟۔اسے پاکستانی ٹیم کو چیمپیئنز ٹرافی میں بھیجنا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں