بلےبازوں کے لیے نئے ڈیزائن کے ہیلمٹ پہننا ضروری

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آسٹریلوی بلے باز فلپ ہیوز کے موت کے بعد حفاظتی سامان کی جانچ کا حکم دیا گیا تھا

آسٹریلیا میں کرکٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ بلےبازوں کو فاسٹ اور میڈیم فاسٹ بولنگ کا سامنا کرتے وقت نئے ڈیزائن کے ہیلمٹ پہننا لازمی ہو گا۔

یہ فیصلہ آسٹریلوی بلےباز فلپ ہیوز کی موت کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد آیا ہے۔ وہ نومبر 2014 میں سر کے پچھلے حصے پر گیند لگنے سے دو روز کوما میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ ان کی موت کے بعد کرکٹ کے حفاظتی اقدامات کی جانچ کا حکم دیا گیا تھا۔

نئے قوانین کے مطابق آسٹریلیا میں کھیلے جانے والے ڈومیسٹک میچوں میں بلے بازوں کو برطانوی معیار کے ہیلمٹ پہننا ہوں گے۔

کھلاڑیوں کو یہ ہیلمٹ تربیت کے دوران بھی پہننا ہوں گے۔ وکٹوں کے قریب کھڑے ہونے والے وکٹ کیپروں اور بلےباز سے سات میٹر کے فاصلے پر کھڑے فیلڈروں کو بھی لازمی طور پر یہ ہیلمٹ پہننا ہوں گے۔

یہ اقدامات ان نئے انکشافات کے باوجود متعارف کرائے جا رہے ہیں کہ موجودہ ڈیزائن کے ہیلمٹ سے بھی ہیوز کی زندگی نہ بچ پاتی۔

25 سالہ آسٹریلوی بیٹسمین فلپ ہیوز کو گردن پر باؤنسر لگنے کے بعد فوراً ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ دو دن بعد چل بسے۔

کرکٹروں کو گردن پر کلپ سے لگائے گئے گارڈ پہننے کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ تحقیق کے مطابق ان کے تحفظ کے کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہیں۔

اسی بارے میں