پاکستان، ویسٹ انڈیز سیریز سری لنکا میں منعقد کرانے پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اگر اسے اپنی ہوم سیریز میں بھی کچھ آمدنی نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ اس سال اکتوبر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی ہوم سیریز سری لنکا میں کھیلنے کے بارے میں غور کررہا ہے۔

اس کا سبب متحدہ عرب امارات میں بڑے پیمانے پر اخراجات بتائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا سلسلہ منقطع ہونے کے بعد سے پاکستان اپنی ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلتا آرہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو بہت زیادہ اخراجات کا سامنا رہتا ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اگر اسے اپنی ہوم سیریز میں بھی کچھ آمدنی نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ کسی دوسرے ملک کی ہوم سیریز کھیلنے سے اسے کوئی آمدنی نہیں ہوتی لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز سری لنکا میں کھیلنے کے بارے میں ہوم ورک کررہا ہے کہ اسے وہاں اسٹیڈیمز دستیاب ہونگے یا نہیں؟ اور وہاں سیریز کے دوران موسم کیسا ہوگا؟

یاد رہے کہ سنہ 2002 میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز کا بھی ایک ٹیسٹ کولمبو میں کھیلا گیا تھا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اگلی پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہوجائے اس ضمن میں کرکٹرز سے معاہدے کرتے وقت کھلاڑیوں سے بھی اس بارے میں بات کی جائے گی کہ وہ لاہور میں کھیلنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نجم سیٹھی نے کہا کہ اگر کھلاڑی لاہور میں کھیلنے کے لیے زیادہ پیسے بھی مانگتے ہیں تو پاکستان کرکٹ بورڈ اس کے لیے بھی تیار ہے۔

انھوں نے توقع ظاہر کی کہ پنجاب کی حکومت بھی لاہور میں میچ کرانے کی سکیورٹی کلیئرنس دے دے گی۔

نجم سیٹھی نے پاکستان سپر لیگ میں چھٹی ٹیم کی شمولیت کے بارے میں کہا کہ معاہدے کی رو سے پاکستان سپر لیگ میں ٹیم کا اضافہ تیسرے سال ہونا ہے تاہم اس کی کامیابی اور فرنچائزز کی ویلیو میں اضافے کے پیش نظر وہ چاہتے تھے کہ چھٹی ٹیم دوسرے سال ہی شامل کرلی جائے لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اخراجات میں کمی کا امکان نہیں ہے بلکہ اس میں اضافے کا امکان ہے۔

’اگر ہم چھٹی ٹیم کا اضافہ کرتے ہیں تو ہماری آمدنی میں اس لیے اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے میڈیا کے حقوق اور سپانسرشپ کے معاہدے پانچ ٹیموں کی بنیاد پر تین سال کے لیے کررکھے ہیں لہذا اگر اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور آمدنی نہیں ہوتی تو اس میں ہمارا نقصان ہے۔‘

نجم سیٹھی نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی بھی فیصلہ پانچوں فرنچائزز کو اعتماد میں لے کر ہی کیا جائے گا۔

اسی بارے میں