’روسی ایتھلیٹس کی دھوکہ دہی پر شرمندہ ہیں‘

Image caption کھیل کے وزیر کا کہنا ہے کہ وہ روس میں مسائل ہونے کو مسترد نہیں کرتے، اور وہ ملکی سطح پر ممنوعہ ادویات کو روکنے کے لیے ہر ممکن کام کر رہے ہیں

روس کے وزیر برائے کھیل ویٹالی مٹکو نے کہا ہے کہ ان کا ملک مقامی اینٹی ڈوپنگ نظام کی پکڑ میں نہ آنے والے اپنے دھوکے باز ایتھلیٹس کی حرکتوں پر ’انتہائی معذرت خواہ‘ اور ’شرمندہ‘ ہے۔

کھیلوں میں ممنوعہ ادویات کے انسداد کے عالمی ادارے (ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی) کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد روس کی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

تاہم ویٹالی مٹکو کا کہنا ہے کہ ’ریو اولمپکس 2016 میں شرکت کے حوالے سے روس کے تمام ایتھلیٹس پر پابندی لگانا ناجائز اور غیر مناسب ہوگا، اور ممنوعہ ادویات سے پاک ایتھلیٹس کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔‘

انھوں نے سنڈے ٹائمز میں لکھا کہ ’ریو اولمپکس کے لیے ایتھلیٹس کے سختی کے ساتھ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔‘

واڈا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آل رشیا ایتھلیٹکس فیڈریشن، روسی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی اور روسی ایتھلیٹکس فیڈریشن ممنوعہ ادویات کے انسداد کے طریقۂ کار پر مکمل طریقے سے عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

کھیلوں کے وزیر نے مزید کہا کہ ’ہم روس میں مسائل کی موجودگی کو مسترد نہیں کرتے، اور ہم ملکی سطح پر ممنوعہ ادویات کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جن میں ممنوعہ ادویات کے انسداد کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں اور کوچز کو سزائیں دینا شامل ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ڈوپنگ صرف روس کا ہی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔‘

مٹکو کا کہنا ہے کہ اگست ميں ریو اولمپکس شروع ہونے تک کھیلوں کے لیے ضوابط وضع کرنے والی گورننگ باڈی (آئی اے اے ایف) اس میں شرکت کرنے والے ممکنہ ایتھلیٹس کا کم از کم تین بار اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ لے چکی ہوگي اور پھر مقابلے سے پہلے بھی ان کا ایک اضافی ٹیسٹ کیا جائےگا۔

ان کا کہنا تھا: ’ان مرد و خواتین نے اعلی ترین مقابلے میں شرکت کے لیے جد و جہد کرتے ہوئے اپنی زندگي کے سالہا سال کی قربانی دی ہے جنہوں نے اولمپکس کھیلوں میں حصہ لینے کے خواب دیکھے تھے اور اب وہ انہیں قربانیوں کو رائیگاں جاتے اور اپنے خوابوں کو چکنا چور ہوتے دیکھنے کے دہانے پر ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مٹکو نے اپنے مضمون میں یہ تسلیم نہیں کیا کہ روسی حکام ڈوپنگ سکینڈل میں ملوث تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں بہت افسوس ہے کہ جن ایتھلیٹس نے ہمیں اور دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کی وہ جلدی نہیں پکڑے گئے۔ ہمیں بہت افسوس ہے کیونکہ روس کھیل میں بلند ترین معیار کو برقرار رکھنے اور اولمپکس کی روایات کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی چیز کی مخالفت کے لیے پرعزم ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اولمپکس میں شرکت کی اجازت دیے جانے کی صورت میں ان کے ملک کے علاوہ کسی بھی ملک کے ایتھلیٹس پر اتنی توجہ مرکوز نہیں ہوگی اور اتنی کڑی نگرانی کے نتیجے میں دھوکے بازوں کو چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملے گی۔‘

ویٹالی مٹکو نے کہا کہ روس نے پابندی اٹھانے کے لیے درکار وہ تمام اقدامات کیے ہیں جن کا مطالبہ آئی اے اے ایف کی جانب سے کیا گیا تھا۔

’یہ ناانصافی ہوگی کہ اتنی تبدیلیوں اور اقدامات کا مطالبہ کیا جائے، ان پر عمل ہوتے دیکھا جائے اور پھر بھی روسی ایتھلیٹس کو سزا دی جائے۔‘

اسی بارے میں