لیسٹر کی جیت پر عقل اب بھی دنگ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جیمی وارڈی نے اس سیزن میں 24 گول کیے جبکہ پچھلے سال کے ’پلیئر آف دی ایئر‘ ایڈن ہیزاڈ صرف چار گول کر سکے

اس برس جب پریمیئر لیگ کا آغاز ہوا تو کسی کے سان وگمان میں بھی نہ تھا کہ ایک ایسا کلب جوگذشتہ سیزن میں پریمئیر لیگ میں رہنے کےلیے تگ و دو کر رہا تھا، وہ اس بار دس پوائنٹس کے واضح مارجن سے دنیا کی سب سے زیادہ مسابقتی فٹبال لیگ کو جیت لےگا اور پچھلے سال کے چیمپئین کلب کو پریمئیر لیگ میں رہنے کے لالے پڑ جائیں۔

لیسٹر سٹی کلب نے اپنی 132 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انگلش پریمیئر لیگ کا چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جبکہ گذشتہ سال کے چیمپئین چیلسی کو اپنی تاریخ کے سب سے کامیاب مینیجر ہوزے میرینو کو سیزن کے دوران فارغ کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

سیزن کے اختتام پر پوائنٹس ٹیبل پر چیلسی کی دسویں پوزیشن ہے اور وہ اگلے سیزن میں صرف انگلینڈ میں ہونے والے مقابلوں میں ہی حصہ لے سکےگا اور یورپی فٹبال اس کی دسترس سے باہر ہو گا۔

٭ لیسٹر سٹی انگلش پریمیئر لیگ کا چیمپیئن

لیسٹر سٹی نے پریمیئر لیگ کو جیت کر ماہرین کو غلط ثابت کر دیا لیکن لیسٹر کے علاوہ باقی ٹیموں کےنتائج توقعات سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے۔ ہمیشہ کی طرح آرسنل نے ایک بار پھر دوسری پوزیشن حاصل کر لی اور سیم ایلڈائس نے سنڈرلینڈ کو پریمیئر لیگ سے نکلنے سے بچا لیا۔

2015-16 کی پریمیئر لیگ کے آغاز پر بی بی سی نے اپنے 30 سپورٹس ماہرین سے پریمئیر لیگ کے بارے رائے مانگی تھی۔ان 30 ماہرین میں سے 22 نے چیلسی کلب کے ایک بار چیمپئن بننےکی پیش گوئی کی تھی۔ ان 30 ماہرین میں ایک بھی ایسا نہیں تھا جس نے لیسٹر سٹی کی جیت کی پیشگوئی کی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لوگوں میں خوشی دیدنی ہے جبکہ برطانوی وزیرِاعظم نے بھی ٹیم کو مبارکباد دی ہے

بی بی سی کے فٹبال ماہر فل میکنلٹی نے کہا تھا کہ چیلسی پریمیئر لیگ جیتےگا جبکہ آرسنل، دوسری مانچسٹر سٹی تیسری اور مانچسٹر یونائیڈ چوتھی پوزیش پر ہو گے۔ فل میکنلٹی کے مطابق لیسٹر سٹی کی پوزیشن 19ویں ہوگی۔ 16-2015 کے پریمئیر لیگ سیزن میں نہ صرف لیسٹر سٹی کی جیت نے سب کو حیران کیا اسی طرح چیلسی کے کھیل نے بھی ماہرین کو ششدر کر دیا۔

انگلش پریمئیر لیگ میں 1971 کے بعد یہ پہلا ایسا موقع ہے جب گذشتہ سال کے چیمپئین نے اگلے سیزن میں دسویں پوزیشن حاصل کی ہو۔

یہ انگلش لیگ کا پہلا سیزن تھا جب پیسے نے کام نہیں دکھایا۔ اس سیزن میں پرفارم کرنے والے وہ کھلاڑی تھےجنھیں بہت کم قیمت میں خریدا گیا تھا۔ لیسٹر سٹی کی کامیابی میں سٹرائیکر جیمی وارڈی اور ریاض محرز نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ریاض محرز کو صرف چار لاکھ پاؤنڈ میں خریدا گیا جبکہ جیمی وارڈی کو ایک معمولی فٹبال کلب فلیٹ وڈ سے پریمیئر لیگ میں لایا گیا اور انھوں نے ماہرین کو حیران کر دیا۔

جبکہ دوسری طرف مانچسٹر سٹی نے صرف دو کھلاڑیوں، کیون ڈیبرائنا اور رحیم سٹرلنگ کو خریدنے کے لیے 10.4 کروڑ پاؤنڈ خرچ کیے۔ مانچسٹر سٹی اتنی رقم خرچ کرنے کے باوجود بمشکل چوتھی پوزیشن حاصل کر پایا ہے۔

اس پریمئیر لیگ میں سات ٹیموں نے اپنے کوچ تبدیل کیے۔ سیزن کے آغاز میں شرطیں لگیں کہ لیسٹر سٹی کے کوچ کلاوڈیو ریناری پہلے ایسے کوچ ہوں گے جنھیں سب سے پہلے فارغ کیا جائے گا۔ کلاوڈیو ریناری نے نہ صرف بک میکروں کو غلط ثابت کر دیا بلکہ پریمئیر لیگ کا ٹائٹل بھی جیت لیا۔

اس سیزن کے دوران آٹھ کوچ فارغ کیےگئے، جن میں چیلسی کے ہوزے میرینو، لیور پول کے برینڈن راجر، سنڈرلینڈ کے ڈک ایڈووکاٹ، ایورٹن کے روبرٹو مارٹینز، ایسٹن ویلا کے ٹم شیروڈ، ایسٹن ویلا کے ریمی گاردے، نیوکاسل کے سٹیومیکلارن اور سوانزی کے گیری مونک شامل ہیں۔

پریمئیر لیگ سے باہر نکلنے والے ایسٹن ولا نے سیزن میں دو کوچ بدلے لیکن کارکردگی میں کوئی فرق نہ پڑا۔

اسی بارے میں