’ کپتانوں کی ہاں میں ہاں ملانے والا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مجھے یہ بات معلوم ہے کہ کپتان نے میدان میں ٹیم کو لڑانا ہے لہذا وہ جو کھلاڑی چاہتے ہیں انھیں وہ فراہم کیے جائیں: انضمام

پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین انضمام الحق کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ میدان میں ٹیم کی اچھی بری کارکردگی کا ذمہ دار کپتان ہوتا ہے لہذا وہ کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے تینوں فارمیٹس کے کپتانوں کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

انضمام الحق نے بی بی سی اردو سروس کو دیےگئے خصوصی انٹرویو میں سلیکشن کے بارے میں اپنے خیالات واضح طور پر بیان کردیے۔

انھوں نے بتایا: ’میں بااختیار چیف سلیکٹر ہوں۔ کپتانوں کی ہاں میں ہاں ملانے والا نہیں ہوں لیکن مجھے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ کپتان نے میدان میں ٹیم کو لڑانا ہے لہذا وہ جو کھلاڑی چاہتے ہیں انھیں وہ فراہم کیے جائیں۔‘

انضمام الحق کپتانوں کی رائے کو اہمیت دیتے وقت اپنی مثال سب کے سامنے رکھتے ہیں۔

’جب میں کپتان تھا تو اس وقت میں بھی اپنی پسند کے کھلاڑیوں کے لیے سلیکٹرز سے کہتا تھا ان کے لیے فائٹ کرتا تھا۔ جو حق میں نے اپنی کپتانی میں استعمال کیا اس سے اب کسی کپتان کو کیوں محروم رکھوں۔‘

انضمام الحق یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ فواد عالم کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔

’میں دو نئے بیٹسمین آصف ذاکر اور اکبر الرحمن کو کیمپ میں لایا ہوں یہ دونوں بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں بڑا سکور کرتے آئے ہیں لیکن اس سے پہلے انھیں کسی نے موقع نہیں دیا تھا ۔ میں کیمپ میں ان کی بیٹنگ دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان میں کتنی صلاحیت ہے۔ فواد عالم سلیکٹرز کے لیے نئے نہیں ہیں لہذا یہ کہنا کہ انھیں نظرانداز کردیا گیا ہے درست نہیں ہے۔ جب بھی ضرورت پڑی ہم فواد عالم کو لاسکتےہیں۔انھیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔‘

انضمام الحق سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر فٹنس کیمپ میں شریک نہ ہوئے لیکن تربیتی کیمپ کے لیے کیسے فٹ ہوگئے؟ تو ان کا جواب تھا کہ دونوں کی فٹنس اتنی خراب نہیں تھی کہ وہ تربیتی کیمپ سے بھی باہر رہتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انضمام الحق یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ فواد عالم کو نظرانداز کردیا گیا ہے

’ڈاکٹرز نےمجھے بتایا کہ یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر کی فٹنس اتنی زیادہ پریشان کن نہیں ہے کہ وہ کیمپ میں نہ آسکیں لیکن میں مستقبل میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ فٹنس کا ایک مقررہ معیار پورا سال برقرار رہے اور اس سلسلے میں کوچ مکی آرتھر سے بھی بات کروں گا اور کوئی بھی کرکٹر جو اس معیار پر پورا نہیں اترے گا اس کے سلیکشن پر غور نہیں ہوگا۔‘

انضمام الحق سے سوال تھا کہ احمد شہزاد اور عمراکمل کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ بدلنے پر آپ پر دباؤ تو نہیں آیا؟

’جب بھی آپ کوئی ایسا فیصلہ کرتے ہیں جو پہلے نہیں ہوپا رہا ہوتا تو اس کا دباؤ آتا ہے کیونکہ لوگوں کے لیے وہ نئی چیز ہوتی ہے۔

’میرا صرف ایک سوال ہے کہ کیا ٹیم میں ڈسپلن نہیں ہونا چاہیے؟ اگر ہونا چاہیے تو پھر میرے فیصلے کو سراہا جانا چاہیے۔‘

انضمام الحق نے کہا کہ ’مجھ سے پہلے کسی نے بھی کبھی کسی کھلاڑی کو ڈراپ کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی لیکن میں نے احمد شہزاد اور عمراکمل کو بلا کر ڈسپلن کے بارے میں یہ واضح کردیا کہ وہ اسے ٹھیک کرلیں اگر ایسا نہیں کریں گے تو میرے لیے انھیں ٹیم میں منتخب کرنا آسان نہ ہوگا۔‘

اسی بارے میں