محمد عامر کے لیے آئی سی سی چیف کی نیک تمنائیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے پاکستان کے تیز رفتار گیند باز محمد عامر کی بین الاقومی کرکٹ میں واپسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس ماہ انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کے ہمراہ انگلینڈ آئیں گے۔

محمد عامر کوسپاٹ فکسنگ میں انگلینڈ کی ایک عدالت سے سزا ملنے کے بعد ان کو انگلینڈ کا ویزا ملنے کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔ پاکستان کے کرکٹ بورڈ نے محمد عامر کے ویزے کے لیے انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ سے بھی رابطہ کیا ہے۔

24 سالہ محمد عامر نے بین الاقوامی کرکٹ میں شمولیت پر پابندی اٹھنے کے بعد اس سال جنوری میں نیوزی لینڈ کے خلاف دو ایک روزہ میچ کھیلے تھے۔

انگلینڈ کے تاریخی کرکٹ میدان لارڈز پر اگست سنہ 2010 میں کھیلے گئے ایک ٹیسٹ میچ میں جان بوجھ کر نو بال کرانے پر پیسے لینے اور شرط لگانے میں دھوکہ بازی کے الزامات میں انھیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس میں سے آدھی انھوں نے برطانیہ میں ایک جیل میں کاٹ لی تھی۔ قید کی سزا کے علاوہ ان پر پانچ سال تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

برطانوی قوانین کے تحت محمد عامر کے مجرمانہ ریکارڈ کے باعث ان کے ویزے کی درخواست مسترد کی جا سکتی ہے اور وہ پاکستان ٹیم کے ساتھ انگلینڈ کے خلاف چار ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی 20 میچ کھیلنے کے لیے انگلینڈ نہیں آ سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

آئی سی سی کے چیف رچرڈسن نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب عامر سزا کاٹ چکے ہیں تو پھر کوئی اعتراض کرنے والا کون ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ محمد عامر اس بات پر آمادہ نظر آتے ہیں کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی مثال سے سبق سیکھنے کا کہیں گے۔ محمد عامر کو اگر انگلینڈ آنے کا ویزا مل گیا تو ٹیسٹ میچوں میں ان کا مقابلے انگلینڈ کے کپتان الیسٹر کک سے ہو گا جنھوں نے حال ہی میں ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز بنانے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

کک کا انداز موجودہ دور کی دھوں دار بیٹنگ سے مطابقت نہیں رکھتا اور وہ اطمینان سے اور صبر کے ساتھ کریز پر کھڑے رہ کر رنز بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ موجودہ دور کے بہت سے بلے باز جن میں ویسٹ انڈیز کے کرس گیلز، آسٹریلیا کے ڈیوڈ وانر اور نیوزی لینڈ کے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے برینڈن میک کلم شامل ہیں وہ جارحانہ بلے بازی کرتے ہیں اور بولر کی دھجیاں بکھیر کر انھیں دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

رچرڈسن نے کہا کہ بائیں ہاتھ سے بلے باز کرنے والے کک کا انداز کوئی برا نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یہ اچھا لگتا ہے کہ کک، گیل، وانر اور میک کلم کی طرح نہیں ہیں۔ رچرڈسن نے مزید کہا کہ وہ ایک روایتی بلے باز ہیں جس طرح کی بلے بازی کو وہ جانتے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے سابق وکٹ کیپر بلے باز نے کہا کہ کک نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک اچھی مثال ہیں کہ کامیاب بلے بازی کے لیے ہر گیند کو میدان سے باہر پھینکنا ضروری نہیں ہوتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انگلینڈ اور آسٹریلیا میں ٹیسٹ کرکٹ آج بھی بڑی حد تک مقبول ہے لیکن دوسرے ملکوں میں اس میں دلچسپی کم ہو رہی ہے اور اس کی جگہ ٹی 20 کرکٹ لیتی جا رہی ہے۔ بہت سے بلے باز بھی ٹی 20 کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

آئی سی سی، جس کا اجلاس اس ہفتے لارڈز میں ہو رہا ہے، وہ اس تجویز پر غور کرنے والی ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں عوام کی دلچسپی بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر دو ڈویژن بنا دیے جائیں۔

تاہم اس سلسلے میں تمام تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے آئی سی سی کے بورڈ کے سامنے پیش کیا جانا ہے۔

رچرڈسن نے کہا کہ ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں کو ایک بات سمجھنی ہو گی کہ اگر مستقبل میں بین الاقوامی کرکٹ میں دلچسپی کو قائم رکھنا ہے تو انھیں ان مقابلوں کو اہمیت دینا ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ اگر اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بہتریں کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ کے لیے دستیاب رہیں تو تمام رکن ملکوں کو اپنے کھلاڑیوں کے معاوضوں کو بہتر بنانا ہو گا۔ رچرڈسن کے بقول اس کا مطلب ہے کہ رکن ملکوں کی فنڈنگ ملنے کے طریقہ کار میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ آئی سی سی فی الوقت فنڈنگ کے ایسے طریقہ کار روشناس کرانے پر غور کر رہی ہے کہ مختلف ٹیموں کے انڈیا کے منافع بخش دوروں پر انحصار کو کم کیا جا سکے اور مقامی ٹی 20 لیگز اور اپنے ملک کے لیے کھیلنے سے بھی کھلاڑیوں کو بہتر معاوضہ مل سکے۔

اسی بارے میں