’میں دوا کو بھی بیمار کر دیتا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’سپر مین کو سیٹ بیلٹ کی ضرورت نہیں‘

محمد علی شہرت کے افق پر نصف صدی قبل طلوع ہوئے اور ان کے ساتھ ان کے برجستہ جملے اور پر مزاح فقرے بھی خاصے مقبول ہوئے۔

بی بی سی ’دا گریٹیسٹ‘ کے بعض عظیم فقرے اور جملے لے کر حاضر خدمت ہے جو کھیل کے ساتھ ساتھ سیاسی اور مذہبی تناظر میں بھی کہے گئے ہیں۔

مقابلے

روم میں اولمپکس کا طلائی تمغہ جیتنے کے بعد: ’امریکہ کو عظیم ترین بنانا میرا مقصد ہے اس لیے میں روسیوں کو پیٹتا ہوں اور پولینڈ والوں کو پیٹتا ہوں۔ اور امریکہ کے لیے طلائی تمغہ جیتا۔ یونانیوں نے کہا کہ تم پرانے کیسیئس سے بہتر ہو۔‘

سنہ 1960 کے روم اولمپکس میں اس وقت کے ہیوی ویٹ چیمپیئن فلائڈ پیٹرسن سے: ’اے فلائڈ میں نے تمھیں دیکھا ہے۔ کسی دن تمھیں ہراؤں گا۔ اس بات کو مت بھولنا میں عظیم ترین ہوں۔‘

سنہ 1964 میں عالمی ہیوی ویٹ چیمپیئن سونی لسٹن سے مقابلے سے قبل: ’سونی لسٹن کچھ نہیں ہے۔ وہ آدمی بات نہیں کر سکتا۔ وہ آدمی لڑ نہیں سکتا۔ اسے بات کرنے میں سبق چاہیے۔ اسے باکسنگ میں سبق چاہیے۔ اور چونکہ وہ مجھ سے لڑنے جا رہا ہے اس لیے اسے گرنے میں بھی سبق چاہیے۔‘

’کیوں دوست۔ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ تم آئینہ دیکھ کر خوف سے مر جاؤ گے۔ اے بدصورت بھالو۔ تمہارا ابھی تک سوائے آوارہ گردوں اور مرے ہوئے لوگوں کے کسی سے مقابلہ نہیں ہوا ہے۔ تم خود کو ورلڈ چیمپیئن کہتے ہو۔ تم اتنے بوڑھے اور سست ہو کہ چیمپیئن ہونے کے قابل ہی نہیں۔‘

’میں لسٹن کو اتنے مکے اتنے زاویے سے ماروں گا کہ وہ سوچے گا کہ وہ گھیر لیا گیا ہے۔‘

لسٹن کو شکست دینے کے بعد: ’میں نے دنیا کو ہلا دیا۔ میں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔‘

سنہ 1965 میں فلائڈ پیٹرسن کی شکست سے قبل: ’میں اسے اتنی بری طرح سے ماروں گا کہ اسے اپنے ہیٹ رکھنے کے لیے شوہارن کی ضرورت محسوس ہوگی۔‘

سنہ 1966 میں برطانیہ کے برائن لنڈن کو ہرانے کے بعد: ’آپ کو اسے سراہنا ہوگا۔ اس نے ڈیڑھ راؤنڈ تک اچھا مقابلہ کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یونانیوں نے کہا کہ تم پرانے کیسیئس سے بہتر ہو

جب ٹیرل نے اسے محمد علی کہنے سے انکار کیا تو سنہ 1967 کے مقابلے کے بعد کہا: ’احمق، میرا نام کیا ہے؟ کیا ہے میرا نام؟‘

آسکر بوناوینا کو سنہ 1970 میں شکست دینے کے بعد: ’میں نے بوناوینا کو اتنے زور سے مارا کہ ارجنٹینا تک اس کے رشتے دار ٹکرا کر گر رہے گئے۔‘

بسٹر ماتھ کو سنہ 1971 میں شکست دینے سے قبل: ’میں بسٹر کے ساتھ وہ کروں گا جو انڈینز نے (جارج ارم سٹرونگ) کسٹر کے ساتھ کیا تھا۔‘

کین نارٹن سے سنہ 1973 میں شکست کے بعد: ’مجھے شکست کا کبھی خیال نہیں گزرا لیکن اب جبکہ ایسا ہو چکا ہے تو اب ایک ہی چیزہے کہ اسے درست کیا جائے۔ یہی میری ذمہ داری ہے ان تمام لوگوں کے ساتھ جو مجھ میں یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں زندگی میں ہار بھی تسلیم کرنی چاہیے۔‘

باکسنگ کمنٹیٹر ہووارڈ کوسیل سے: ’تم کہتے ہو کہ میں وہ نہیں ہوں جو دس سال قبل تھا۔ میں نے تمہاری بیوی سے بات کی۔ اس نے کہا کہ تم وہ نہیں ہو جو دس سال قبل تھے۔‘

سنہ 1974 کے معروف باکسنگ مقابلے ’رمبل دا جنگل‘ میں فورمین کو ناک آؤٹ کرنے سے قبل: ’میں نے جارج فورمین کو پرچھائیں سے باکسنگ کرتے دیکھا ہے اور پرچھائیں جیت گئی تھی۔‘

’رمبل ان دا جنگل‘ سے قبل: ’میں نے مگرمچھ سے کشتی کی ہے، وھیل سے ٹکر لی ہے، بجلی کو ہتھکڑی پہنائی ہے، کڑک کو جیل میں بند کیا۔ گذشتہ ہفتے میں چٹان کو قتل کیا ہے، پتھر کو زخمی کیا ہے، اینٹ کو ہسپتال پہنچایا ہے۔ میں اتنا برا ہوں کہ میں دواؤں کو بھی بیمار کر دیتا ہوں۔‘

اس مقابلے کے دوران: ’جارج اور تمھیں وہ سب مل گیا۔‘

’یہ صرف ایک کام ہے، گھاس اگتی ہے، چڑیاں اڑتی ہیں، لہریں ریت کو بہا لے جاتی ہیں اور میں لوگوں کو مارتا ہوں۔‘

’مقابلے شاہدین سے بہت پہلے میرے ان چمکتی روشینوں میں رقص کرنے سے قبل جیت لی جاتی ہیں، رنگ میں اترنے سے قبل، جم میں، وہاں باہر سڑکوں پر۔‘

فریزر کے ساتھ مقابلہ

Image caption ’میں فائٹنگ کی کمی محسوس نہیں کروں گا فائٹنگ میری کمی محسوس کرےگی‘

’جو فریزر اتنا بدصورت ہے کہ جب وہ روتا ہے تو آنسو اس کے چہرے کے بجائے سر کے پیچھے چلا جاتا ہے اور وہاں سے گرتا ہے۔‘

’فریزر اتنا بدصورت ہے کہ اسے اپنا چہرہ امریکی وائلڈ لائف بیورو کو دے دینا چاہیے۔‘

’جو بھی سیاہ فام فریزر کا حامی ہے وہ غدار ہے۔ فریزر کے حامیوں میں صرف سوٹ بوٹ والے سفید فام، الاباما کے شیرف اور کو کلکس کلان کے رکن ہیں۔ میں تو صرف باڑے میں رہنے والے چھوٹے لوگوں کے لیے لڑ رہا ہوں۔‘

سنہ 1975 میں تھریلا ان منیلا سے قبل: ’میں جب منیلا میں گوریلے کو دبوچ لوں گا تو میں کلر، چلر اور تھرِلر ہوں گا۔‘

’میں ہمیشہ جس سے لڑتا ہوں اس کا بہتر پہلو باہر لاتا ہوں، لیکن میں دنیا کو کہنا چاہتا ہوں کہ فریزر میرے اندر کی بہترین چیز باہر لاتا ہے۔ میں آپ کو کہتا ہوں کہ وہ ایک آدمی جس پر خدا رحم کرے۔‘

سیاست پر

’باکسنگ میں بہت سے سفید فام مل کر دو سیام فام کو ایک دوسرے کو مارتے ہوئے دیکھتے ہیں۔‘

’کیسیئس کلے غلامانہ نام ہے۔ میں نے اس کا انتخاب نہیں کیا اور میں نے اسے نہیں چاہا۔ میں محمد علی ہوں ایک آزاد نام۔ اور میں لوگوں سے اصرار کرتا ہوں کہ جب مجھ سے یا میرے بارے میں بات کریں تو اس کا استعمال کریں۔‘

جیری کویری سے سنہ 1970 میں مقابلے سے قبل: ’کوئی مجھ سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اہم کام ہے۔میں ایک شخص سے نہیں لڑ رہا ہوں۔ میں بہت سے لوگوں سے لڑ رہا ہوں اور انھیں دکھا رہا ہوں کہ یہاں ایک آدمی ہے جسے وہ ہرا نہیں سکتے جسے وہ فتح نہیں کر سکتے۔ میرا مشن تین کروڑ سیاہ فاموں کو آزادی دلانا ہے۔‘

’میں امریکہ ہوں۔ میں تمہارا حصہ ہوں جسے تم نہیں پہچانتے۔ لیکن میرے عادی ہو جاؤ۔ سیاہ، پراعتماد، مغرور بانکا۔ میرا نام تمھارا نہیں۔ میرا دین تمھارا نہیں۔ میرا ہدف میرا اپنا ہے۔ میرے عادی ہو جاؤ۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption درحقیقت لوگ مجھے اب زیادہ توجہ دیتے ہیں کیونکہ اب میں زیادہ نہیں بولتا

’ہم یہاں 400 سو سال قبل ایک کام کے لیے لائے گئے۔ ہم یہاں سے نکل کیوں نہیں جاتے؟ اپنا جہاں آباد کریں اور ملازمت کے لیے بھیک مانگنا بند کریں۔ ہم اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہماری اپنی سرزمین نہ ہو۔ ہم چار کروڑ ہیں اور ہمارے پاس دو ایکڑ بھی نہیں جسے ہم حقیقی طور پر اپنا کہہ سکیں۔‘

’میں اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے ان بھائیوں کی عزت کے لیے لڑنے جا رہا ہوں جو آج امریکہ میں سیمنٹ کے فرشوں پر سو رہے ہیں۔ سیاہ فام جو خیرات پر زندہ ہیں، جو کھا نہیں سکتے، سیاہ فام جنھیں اپنے بارے میں کوئی علم نہیں، سیاہ فام جن کا کوئی مستقبل نہیں۔‘

سنہ 2001 میں ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر حملے کے بعد: ’ہمیں واقعتاً یہ چیز دکھ دے رہی ہے کہ اس کے ساتھ اسلام کا نام جڑ گيا ہے اور مسلمان پریشانی، نفرت اور تشدد پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ اسلام قاتلوں کا مذہب نہیں، اسلام کا مطلب امن ہے۔‘

امریکہ فوج میں جانے سے انکار

’لوگ مجھے وردی پہننے اور گھر سے دس ہزار میل دور جانے اور ویت نام میں بھورے لوگوں پر بم اور گولی برسانے کے لیے کیوں کہیں جبکہ اپنے لوزیانا میں ہی نام نہاد سیاہ فام کے ساتھ کتوں کا سلوک ہو رہا ہے اور انھین معمولی انسانی حقوق حاصل نہیں۔‘

’میں ویت کونگ سے لڑنے نہیں جا رہا کیونکہ ویت کونگ نے کبھی مجھے نِگر (حبشی) نہیں کہا۔‘

شخصیت کے پرتو جملے

’تتلی کی طرح اڑو اور بھڑ کی طرح ڈنک مارو۔ ہاتھ اسے نہیں مار سکتے جسے آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’میں ہمیشہ لڑکیوں کے پیچھے بھاگتا تھا۔ پارکنسن نے مجھے اس سے روک دیا۔ اب مجھے جنت میں جانے کا ایک موقع ہے۔‘

’میں عظیم ترین ہوں۔‘

’میں عظیم ترین نہیں ہوں میں دگنا عظیم ترین ہوں۔ نہ صرف میں انھیں مار گراتا ہوں بلکہ میں میچ بھی جیت جاتا ہوں، آج میں رنگ میں دنیا کا بہادر ترین، خوبصورت ترین، عظیم ترین، معقول ترین، ہنرمند ترین فائٹر ہوں۔‘

’لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ان کے پاس کیا ہے جب تک کہ وہ ان سے چھن نہ جائے۔ جیسے صدر کینیڈی، کوئی ان جیسا نہیں تھا، بیٹلز کی طرح، ان جیسا اب کوئی نہیں ہوگا، میرے دوست ایلوس پریسلی کی طرح۔ میں باکسنگ کا ایلوس تھا۔‘

’میں بڑھاپے تک لڑنا نہیں چاہتا۔ میں بس پانچ چھ سال لڑوں گا، دو تین ملین ڈالر کماؤں گا اور لڑنا چھوڑ دوں گا۔‘

’اس وقت منسکر مزاج ہونا بہت مشکل ہے جب آپ اتنے عظیم ہوں جتنا میں ہوں۔‘

’سچ یہ ہے کہ میں سکول میں کبھی بھی بہت تیز نہیں تھا۔ اور مجھے اس بات پر شرمندگی بھی نہیں۔ سکول کا پرنسپل ایک مہینے میں کتنا کماتا ہے؟ میں نے کہا کہ میں عظیم ترین ہوں، کبھی یہ نہیں کہا کہ ذہین ترین ہوں۔‘

’گھر پر میں ایک اچھا انسان ہوں لیکن میں نہیں چاہتا کہ دنیا یہ جانے۔ میں نے پایا ہے کہ خاکسار لوگ بہت آگے نہیں جاتے۔‘

’جب آپ دنیا میں کسی شخص کو کوڑے لگا سکتے ہیں تو سمجھ لیں کہ آپ کو چین نہیں مل سکتا۔‘

’ایک آدمی جو دنیا کو اسی نظر سے 50 سال کی عمر میں دیکھے جیسا وہ 20 سال کی عمر میں دیکھتا تھا تو اس کا مطلب ہے اس نے اپنی زندگی کے 30 سال برباد کیے۔‘

’چیمپیئن جم میں نہیں بنتے بلکہ چیمپیئں اپنے اندر کی چیز خواہش، خواب اور ویژن سے بنتے ہیں۔‘

’اگر تم خواب میں بھی مجھے ہرانے کا خیال رکھتے ہوتو بیدار ہو جاؤ اور مجھ سے معافی طلب کرو۔‘

’میں اپنا نام ایسی جگہ پر دیکھنا چاہتا ہوں جہاں سارے لوگ اسے پڑھ سکیں۔ کسی دن وہ روشن اور درخشاں دیکھوں گا۔‘

’میں فائٹنگ کی کمی محسوس نہیں کروں گا فائٹنگ میری کمی محسوس کرےگی۔‘

’سپر مین کو سیٹ بیلٹ کی ضرورت نہیں۔‘

’میں اتنا تیز ہوں کہ گذشتہ رات میں نے اپنے ہوٹل کی روشنی بجھائی کمرے میں اندھیرا پھیلنے سے قبل میں بستر پر تھا۔‘

’شاید میری بیماری خدا کی جانب سے مجھے یہ یاد دہانی ہو کہ کیا چیز اہم ہے۔ اس نے مجھے سست کر دیا اور بولنے کے بجائے سننے پر مجبور کر دیا۔ درحقیقت لوگ مجھے اب زیادہ توجہ دیتے ہیں کیونکہ اب میں زیادہ نہیں بولتا۔‘

’میں ہمیشہ لڑکیوں کے پیچھے بھاگتا تھا۔ پارکنسنز نے مجھے اس سے روک دیا۔ اب مجھے جنت میں جانے کا ایک موقع ملا ہے۔‘

’کیا دنیا میں کبھی ایسا کوئی فائٹر ہوگا جو شعر کہتا ہو، پیش گوئیاں کرتا ہو، ہر کسی کو ہراتا ہو، لوگوں کو ہنساتا ہوں، لوگوں کو رلاتا ہو اور جو میرے جتنا لمبا اور میرے جیسا خوبصورت ہو؟‘

اسی بارے میں