بھئی ہم فٹ بال بھی جانتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یہ 80 کی دہائی کی بات ہے جب میری اور مجھ جیسے کئی دوسروں کی دلچسپی تقریباً ہر کھیل میں ہوا کرتی تھی۔ صبح چار چار بجے اٹھ کے آسٹریلیا میں ہونے والے کرکٹ میچ کی کمنٹری سنتے، محمد علی کے باکسنگ کے میچ میں سکول سے چھٹی کر لیتے اور ہاکی دن رات چلتی رہتی۔ ایک فٹبال ہی تھا جس کا ہمیں زیادہ علم نہیں تھا لیکن پھر بھی ہم میراڈونا اور پیلے کو جانتے تھے۔

# یورو فٹ بال چیمپیئن شپ میں کب کون جیتا؟

ہاں میراڈونا اور پیلے۔ میراڈونا کا نام اس لیے پہلے لکھا کہ وہ میرے پسندیدہ فٹبالر ہیں اور فٹبال کےان چند کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جن کے نام مجھے اب بھی یاد ہیں۔ چھوٹے قد کے پھرتیلے، چالاک اور پرجوش فٹبالر۔ جن کے پاؤں تو پاؤں ’ہاتھ پر بھی خدا کی رحمت تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Allsport Hulton Archive
Image caption 1966 میں فٹ بال کے عالمی کپ کے ایک میچ کا منظر

اس کے علاوہ جرمنی کے وولر، ارجنٹینا کے باٹسٹا، اٹلی کے روزی، برازیل کے کارلوس، زیکو، فلکاؤ اور رونالڈو، انگلینڈ کے گیری لِنیکر اور فرانس کے پلاٹینی کچھ ایسے نام ہیں جو یاد رہ گئے ہیں یا اس وقت بھی صرف یہی نام یاد تھے۔

لیکن اصل میں تھے بس دو ہی: میراڈونا اور پیلے۔ اور میرا خیال ہے کہ 70 اور 80 کی دہائی میں میری طرح پاکستانیوں کی اکثریت انھیں دو فٹبالرز کی مداح تھی۔

یوں تو پیلے 50 کی دہائی سے فٹبال کھیل رہے تھے لیکن وہ 80 کی دہائی اور آج تک میری جنیریشن کے لوگوں میں اسی طرح مقبول ہیں جس طرح مجھ سے پہلے کی جنریشن کے لوگوں میں تھے۔

لیکن اگر آج کے پاکستانی نوجوانوں کی بات کی جائے تو وہ نہ صرف آپ کو بہت سے ملکوں کی ٹیموں کے کھلاڑیوں کے متعلق بتا سکتے ہیں بلکہ یہاں تک بتا دیں گے کے یورپی لیگ میں کون بہتر ہے اور کون سے کلب نے کون سا کھلاڑی کتنے کا خریدا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption میراڈونا کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ’ان کے ہاتھ پر بھی خدا کی رحمت تھی‘

مانچیسٹر یونائیٹڈ کا کوچ کون بن رہا ہے اور بارسیلونا نے اپنے پرانے کوچ سے معاہدہ کیوں اور کب ختم کیا ہے؟ یورپی لیگ کیا ہے، لالیگا کیا اور انگلینڈ کی پریمیئر لیگ میں کس کلب نے کیا کارنامہ انجام دیا۔ مطلب یہ کہ وہ فٹبال کے متعلق ہم سے بہت زیادہ جانتے ہیں اور یہی نہیں وہ آپ کو یہ بھی بتا دیں گے کہ کتنے بڑے کھلاڑی مسلمان ہیں اور ان میں سے کتنے مسلمان کھلاڑی رمضان میں روزے سے بھی کھیلتے ہیں۔ غرض سب کچھ۔

لیکن میں پھر بھی انھیں اپنے سے بڑا اس کھیل کا مداح نہیں کہوں گا۔ کیونکہ ان میں سے شاید کوئی سوچ بھی نہ سکتا ہو کہ سخت گرمی میں پورے کا پورا محلہ گلی میں پانی کا چھڑکاؤ کرنے کے بعد چارپائیاں بچھا کر ورلڈ کپ کے میچ کیسے دیکھ سکتا ہے۔

وہ الگ بات تھی کہ محلے کی خالائیں اور تائیاں چائے اور شربت کا بھی انتظام کر دیتی تھیں۔

ذرا ایک منٹ رکیں ایک فون ہے۔ ’ماموں پلیز اس مرتبہ آتے ہوئے میسی کی ایک شرٹ لیتے آئیں گے۔ اصلی بارسیلونا والی۔‘

اسی بارے میں