یورو 2016: ’میچوں کے دوران شراب نوشی پر پابندی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

فرانس میں حکام نے یورو فٹبال چیمپیئن شپ کے میچوں کی میزبانی کرنے والے شہروں کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ سٹیڈیمز کے نزدیک اور شائقین کے لیے مختص علاقوں میں شراب نوشی پر پابندی عائد کر دیں۔

فرانسیسی حکام کی جانب سے مارسے میں انگلینڈ اور روس کے درمیان میچ کے بعد شائقین اور پولیس کے درمیان تصادم کے واقعات کے بعد شراب نوشی پر پابندی کی اپیل کی گئی ہے۔

٭انگلینڈ اور روس کو یورو سے نااہل قرار دیے جانے کا خطرہ

* شائقین میں جھڑپیں: یوئیفا کا روس کے خلاف تحقیقات کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AP

فرانس کے وزیر داخلہ برناڈ کازنو نے کہا ہے کہ’ میں نے کہا ہے کہ میچ سے پہلے، میچ کے دن اور جس دن شائقین کے لیے مختص مقامات کھلے ہوں وہاں شراب کی فروخت، شراب نوشی اور شراب کی ترسیل کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔`

انھوں نے کہا کہ پابندی میں عوامی مقامات بھی شامل ہوں گے اور آف لائسنس شراب خانوں پر اس کا اطلاق ہو گا۔

وزیر داخلہ برناڈ کازنو کے مطابق مقامی سینیئر حکام شراب خانوں اور کیفے کی بالکونی میں شراب پینے پر پابندی عائد کر سکیں گے کیونکہ وہاں سے خالی بوتلوں کو میزائلز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

’مارسے میں پیش آنے والے واقعات ناقابل قبول ہیں، انتظامیہ کے لیے ناقابل قبول ہیں، معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہیں اور فٹبال سے پیار کرنے والوں کے لیے ناقابل قبول ہیں۔‘

بدھ کو روس کا میچ سلووکیا سے لیل شہر میں ہے جبکہ اس سے 24 میل دور لوس میں انگلینڈ اور ویلز مدمقابل ہوں گے۔

لوس میں پہلے ہی شراب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور حکام نے کہا ہے کہ وہ شائقین شہر کا سفر کرنے سے اجتناب کریں جن کے پاس میچ کے اس سے پہلے یورپی ممالک کی فٹبال کی نگران تنظیم یوئیفا کا کہنا تھا کہ اگر شائقین کی جانب سے مزید تشدد ہوا تو انگلینڈ اور روس کی ٹیموں کو یورو 2016 سے نااہل قرار دے دیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں