سنسنی خیزی، ہلڑبازی، یورو کپ 2016

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یورو 2016 کے افتتاحی میچ سے دس منٹ قبل میرے ٹوئٹر ٹائم لائن پر آنے والی ایک ٹویٹ سے معلوم ہوا کہ دمتری پائے کی قدر میں لحظہ بہ لحظہ اضافہ ہو رہا ہے۔ پائے نے گذشتہ سیزن ویسٹ ہیم کے لیے کھیلا تھا اور اب انھیں موقع مل رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی شائقین کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔

لیکن پیرس کے سٹیڈیم میں موجود مقامی شائقین بےحد پریشان تھے۔ ان کی ٹیم نے دوسرے ہاف میں گول کیا تھا لیکن اسے رومانیہ کی باہمت ٹیم نے جلد ہی برابر کر لیا۔ اب ایسا لگ رہا تھا جیسے میچ برابر ہو جائے گا۔ یہ اس ٹورنامنٹ کا بڑا مایوس کن آغاز ہوتا جس کے لیے فرانس نے ایک طویل عرصہ انتظار کیا تھا۔ تاہم چند منٹوں کے اندر اندر ہی پائے نے ایک زبردست شاٹ کھیل کر گیند گول کے اندر پہنچا دی۔ اب فرانس کھل کر جشن منا سکتا تھا۔

یورو کپ صحیح معنوں میں اب شروع ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ یورپ اس وقت بحرانی صورتِ حال سے گزر رہا ہے۔ معاشی بحران نے براعظم پر موجود خلیج کو گہرا کر دیا ہے، اور پناہ گزینوں کے حالیہ بحران نے بظاہر اس خلیج کی گہرائی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی کی وارداتیں ہیں جنھوں نے حال ہی میں پیرس اور دوسرے یورپی شہروں کو نشانہ بنایا ہے، اور خود یہ ٹورنامنٹ کو بھی اس کی وجہ سے خطرہ لاحق ہے۔ اس قدر غیریقینی صورتِ حال کی وجہ سے یہ بات قابلِ فہم ہے کہ سٹیڈیم میں بیٹھے ہوئے شائقین کیوں اس بات کے شدت سے متمنی تھے کہ فٹبال انھیں کسی قسم کی امید فراہم کرے۔

فرانس میں فٹبال بذاتِ خود بےحد سیاسی کھیل ہے۔ 1998 میں اپنے میدانوں پر ورلڈ کپ جیتنے کے بعد نسلی ہم آہنگی کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا، لیکن اس کے بعد اگرچہ فرانس فٹبال کی دنیا میں قدم جماتا گیا، لیکن وہ اپنا نسلی ہم آہنگی کا خواب نہیں پورا ہو سکا۔ تاہم اس سال وہ ایک بار پھر میزبان ہیں اور فرانس کی ٹیم ٹورنامنٹ کی سب سے پرجوش ٹیم دکھائی دے رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ٹورنامنٹ میں کل 24 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جس سے یہ تصور مشکل نظر آتا ہے کہ کون سی یورپی ٹیمیں ایسی ہوں گی کہ اس کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکیں۔ فرانس کے علاوہ عالمی چیمپیئن جرمنی اور دفاعی یورپی چیمپیئن سپین کی ٹیمیں فیورٹ ہیں۔ تاہم فرانس کی ٹیم میں کانت، پوگبا اور گریزمین جیسے کھلاڑی اپنا پہلا بڑا ٹورنامنٹ کھیل رہے ہیں، جب کہ دوسری جانب ایسا لگتا ہے جرمنی اور سپین کی ٹیمیں اب کسی حد تک مائل بہ زوال ہیں۔ اگرچہ ان ٹیموں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں تاہم ان کے فلیپ، لام اور چابی جیسے بڑے نام اب اپنی ٹیموں کا حصہ نہیں ہیں۔

اس ٹورنامنٹ کے چھپے رستم اٹلی اور فرانس کی ٹیمیں ہو سکتی ہیں، خاص طور پر اٹلی، جو ایسے مواقع پر اپنا بہترین کھیل سامنے لے آتی ہے۔ اس نے پچھلے ٹورنامنٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کر لی تھی، اور اس کا دفاع خاصا مضبوط ہے، جب اس کے کھیلنے کا سٹائل ایسا ہے جو ایسے مقابلوں میں دور تک ساتھ دیتا ہے۔

فرانس کے ساتھ ساتھ بیلجیئم اس ٹورنامنٹ کی سب سے پرجوش ٹیم ہے، خاص طور پر ایڈن ہزار، ڈی برائنے اور لوکاکو جیسے کھلاڑی ٹورنامنٹ پر کسی بھی وقت طوفان کی طرح چھا سکتے ہیں۔ گذشتہ ورلڈ کپ میں بھی ان سے بہت سے امیدیں وابستہ تھیں لیکن وہ آخری لمحات پر گھبراہٹ کا شکار ہو کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے۔

سکاٹ لینڈ جزائر برطانیہ کی واحد ٹیم ہے جو اس ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی۔ ویلز نے چھ عشروں کے بعد تاریخی واپسی کی ہے۔ ان ٹیموں میں برطانیہ سب سے مضبوط ٹیم ہے تاہم ان میں سے کسی کو بھی فیورٹ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ایک اور ٹیم جو فیورٹ نہیں ہے البتہ اس کی کہانی بےحد سنسنی خیز ہے، وہ آئس لینڈ کی ٹیم ہے۔ انھوں نے گراس روٹ درجے پر پروگرام شروع کیا جس کے بعد ان کی فٹبال ٹیم گمنامی کے اندھیروں سے نکل کر یورو کپ تک پہنچ گئی ہے۔

لیکن سکے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کے آغاز پر جس قسم کی ہلڑباڑی ہوئی ہے وہ بذاتِ خود ٹورنامنٹ کی بڑی خبر بن گئی ہے۔

اگر تشدد پر قابو پایا جا سکے تو پھر اس بات کی ہر ممکن امید رکھی جا سکتی ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں نت نئے سنسنی خیز موڑ اور جذباتی لمحات دیکھنے کو ملیں گے۔

اسی بارے میں