دورۂ انگلینڈ، محمد عامر کے لیے خاص ہدایات

تصویر کے کاپی رائٹ ap

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ فاسٹ بولر محمد عامر کے بارے میں ٹیم منیجمنٹ کو خاص ہدایات جاری کی ہیں جن کا مقصد چھ سال پہلے جیسی صورت حال سے بچنا ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 2010 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ میں محمد عامر اپنے کپتان سلمان بٹ اور ساتھی فاسٹ بولر محمد آصف کے ساتھ سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے جس کے نتیجے میں ان تینوں کرکٹرز کو آئی سی سی کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ لندن کی عدالت نے بھی تینوں کو قید کی سزا سنائی تھی۔

٭ ’عامر دباؤ کا جواب اچھی کارکردگی سے دے سکتے ہیں‘

٭ عامر پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہے: وسیم اکرم

٭ محمد عامر کے لیے آئی سی سی چیف کی نیک تمنائیں

ان تینوں کرکٹرز پر آئی سی سی کی جانب سے عائد کردہ پابندی ختم ہو چکی ہے جب کہ محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہو چکی ہے اور وہ اب تک پاکستانی ٹیم کے ساتھ نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش اور بھارت کے دورے کر چکے ہیں۔

انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے منیجر انتخاب عالم نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ’پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے گذشتہ دورے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بار ڈسپلن کے معاملے میں سخت ہدایات دے رکھی ہیں۔ اس بار منیجمنٹ کو زیادہ چوکس رہنا ہوگا۔‘

انتخاب عالم نے کہا ’محمد عامر کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ انھیں اس دورے میں انکساری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انھیں بتا دیا گیا ہے کہ انگلینڈ کے دورے میں انھیں مشتعل کیا جاسکتا ہے لہذا انھیں خود ردعمل ظاہر نہیں کرنا بلکہ ٹیم منیجمنٹ کو اس بارے میں اطلاع دینی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ محمد عامر پر یہ بات بھی واضح کر دی گئی ہے کہ اگر کوئی بھی شخص ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کی اطلاع منیجمنٹ کو دیں۔

پاکستانی ٹیم کے منیجر نے یہ بھی بتایا کہ محمد عامر کو دورے میں بار بار میڈیا کے سامنے نہیں لایا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندے ایک بار ان سے بات کر لیں جس کے بعد فرداً فراً کسی کو بھی محمد عامر کا انٹرویو کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں