ریو میں آسٹریلوی ایتھلیٹ کو لوٹ لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹیش نے وھیل چيئر باسکٹ بال اور کشتی رانی میں تمغے حاصل کر رکھے ہیں

چھ بار پیرالمپکس میں شرکت کرنے والی آسٹریلوی ایتھلیٹ کو برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں بندوق دکھا کر لوٹ لیا گیا۔

لیزل ٹیش نے کہا کہ اتوار کو ایک شخص نے بندوق کے زور پر انھیں ان کی سائیکل سے دھکا دیا اور اسے لے کر بھاگ گیا۔

آسٹریلیا کی پیرالمپکس ٹیم کی فیزیوتھیراپسٹ سارہ روس کی سائیکل بھی اس واقعے میں جاتی رہی۔

آسٹریلوی اولمپک کمیٹی نے اس واقعے کے بعد کہا کہ ریو شہر میں سکیورٹی میں اضافہ کرنا چاہیے۔

آسٹریلیا کے چیف ڈی مشن کیٹی چلر نے کہا: ’ہم نے یہ مطالبہ کیا ہے سکیورٹی کی سطح کا جائزہ لیا جائے اور محافظوں کو گیمز سے قبل تربیت اور مقابلے کے مقامات پر بطور خاص تعینات کیا جا‏‏ئے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں اور یہ اس سطح تک پہنچ گیا ہے کہ آئندہ ماہ اولمپک گیمز کے لیے ریو پہنچنے والے ہماری ٹیم کے اراکین کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ٹیش نے وھیل چيئر، باسکٹ بال اور کشتی رانی میں تمغے حاصل کر رکھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ریو میں تقریبا پونے چار لاکھ سیاحوں کی آمد متوقع ہے

47 سالہ ایتھلیٹ نے اس واقعے کو خوفناک قرار دیا۔ انھوں نے بتایا کہ جن دو لوگوں نے انھیں لوٹا پہلے انھوں نے رقم کا مطالبہ کیا تھا۔

آسٹریلیا کے سیون نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب ہم نے کہا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں تو اس نے مجھے دھکا دیا اور میں پتھروں پر گرپڑی۔

یہ دونوں خواتین فلیمنگو بیچ کے پاس تربیت حاصل کر رہی تھیں۔ ٹیش نے کہا کہ کئی لوگوں نے اس واقعے کو دیکھا لیکن کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آيا۔

برازیل کے حکام کا کہنا ہے کہ اگست میں ہونے والے اولمپک اور پیرالمپک گیمز ایتھلیٹس اور سیاحوں کے لیے محفوظ ہیں اور اس کے لیے 85 ہزار فوجیوں اور پولیس کو ریو میں تعینات کیا گيا ہے۔

لیکن تازہ رپورٹس میں وہاں جرائم میں اضافہ دیکھا گيا ہے۔ مئی میں سپین کی کشتی رانی ٹیم کے تین ارکان کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گيا تھا۔

ریو ریاست کے سکیورٹی سیکریٹری جوز بلٹرام نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ مندی اور پولیس فنڈنگ کے مسئلے کے سبب ایسا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ فنڈنگ کا معاملے حل کیا جا رہا ہے اور یہ کہ ریو اولمپکس کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں