زلاتان ابراہیمووچ کا انٹرنیشنل فٹبال کو الوداع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وہ کلب فٹبال جاری رکھیں گے اور خیال کیا جارہا ہے کہ زلاٹان کا تبادلہ جلد ہی انگلش فٹبال کلب مینچسٹر یونائیٹڈ میں ہوگا

سویڈین کے بہترین کھلاڑی اور ميلان، بارسالونا، ايجيکس اور يوونٹس جيسے کلبوں کے ساتھ کھيلنے والے زلاتان ابراہیمووچ نے انٹرنیشنل فٹبال کو الوداع کہہ دیا ہے۔ 34 سالہ زلاتان نے 116 انٹرنیشنل میچوں میں 62 گول کیے۔ ان کا تعلق سویڈین کے شہر مامو کے علاقے روزنبرگ سے ہے جہاں پر زیادہ تر رہائشی تارکینِ وطن تھے۔ زلاتان کے والد کا تعلق بوسنیا سے تھا جبکہ ان کی والدہ کروئیشیا سے تھیں۔ 15 سالہ طویل کیرئیر میں زلاتان کے کئی یادگار لمحات ہیں، تاہم 2012 میں انگلینڈ کے خلاف ایک دوستانہ میچ میں انھوں نے چار گول کیے جن میں مہشور زمانہ بائسیکل گول بھی شامل ہے جو کہ انھوں نے کلابازی کھا کر ہوا میں گیند کو گول کی جانب پھینکتے ہوئے کیا۔ زلاتان کا نام ریو اولمپکس جانے والی سویڈین کی فٹبال ٹیم میں بھی شامل ہے تاہم انھوں نے کہا ہے کہ وہ اولمپکس میں شرکت نہیں کریں گے۔ واضع رہے کہ وہ کلب فٹبال جاری رکھیں گے اور خیال کیا جارہا ہے کہ زلاتان کا تبادلہ جلد ہی انگلش فٹبال کلب مینچسٹر یونائیٹڈ میں ہوگا۔ انھوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان سویڈن کے بیلجیئم سے ایک صفر سے ہارنے کے اور یورو 2016 سے باہر ہونے کے بعد کیا۔

میچ کے 84 ویں منٹ میں بیلجیئم کے راجا نینگولان کے شاندار گول نے بیلجیئم کو ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچا دیا۔ بیلجیئم نے گروپ ای میں اٹلی کے ساتھ مشترکہ طور پر چھ پوائنٹ حاصل کیے، البتہ اٹلی بہتر گول اوسط کی وجہ سے گروپ میں سرِ فہرست رہا۔

اب بیلجیئم کا مقابلہ اگلے مرحلے میں ہنگری سے ہو گا۔

سویڈن صرف ایک پوائنٹ حاصل کر کے آخری نمبر پر رہا، اور کپتان ابراہیمووچ کا یہ دعویٰ کہ وہ اپنا کریئر کبھی بھی مایوس کن موڑ پر ختم نہیں کریں گے، بس دعویٰ ہی ثابت ہوا۔

انھوں نے دوسرے ہاف میں اپنی ٹیم کو جوش دلانے کی سخت کوشش کی، لیکن بیلجیئم نے ہر حملہ پسپا کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ge

گروپ ای ہی کے ایک اور میچ میں آئرلینڈ نے گروپ کی سرِ فہرست ٹیم اٹلی کو ایک گول سے ہرا کر آخری 16 کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

آئرلینڈ کی جانب سے روبی بریڈی نے ویس ہولاہان کے پاس پر 84ویں منٹ میں گول کیا۔ یہ 22 برسوں میں آئرلینڈ کی اٹلی کے خلاف پہلی فتح تھی۔

تاہم اس میچ کے نتیجے سے قطع نظر اٹلی پہلے ہی گروپ میں اپنی اول پوزیشن یقینی بنا چکا تھا۔ اب اس کا اگلے مرحلے میں دفاعی چیمپیئن سپین سے مقابلہ ہو گا۔

اسی بارے میں