کویت کا آئی او سی پر ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پابندی کے بعد کویت کا کہنا ہے کہ شاید وہ اگست میں ہونے والے ری او اولمپکس میں بھی شرکت نہ کرے

کویت نے اپنی اولمپک کمیٹی کی رکینت معطل کیے جانے پر بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے خلاف سوئس کورٹ میں ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ درج کیا ہے۔

خیال رہے کہ آئی او سی اور فٹ بال کی گورننگ باڈی فیفا نے کویت کی رکنیت معطل کی جانے کی وجہ کویت میں ایسے قوانین کی موجودگی بتائی ہے جن کی مدد سے حکومت کو کھیلوں میں مداخلت کی اجازت مل جاتی ہے۔

لیکن کویت نے کہا ہے کہ آئی او سی نے ان پر بغیر مناسب تحقیقات کے پابندی عائد کی ہے۔

کویت کا کہنا ہے کہ شاید وہ اگست میں ہونے والے ریو اولمپکس میں بھی شرکت نہ کرے۔

سرکاری ایجنسی کونا نے وزیرِ اطلاعات شیخ سلمان کے حوالے سے لکھا ہے کہ کویت کو انٹرنیشنل سپورٹس میں شمولیت سے روکنا غیرمنصفانہ ہے اور یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

ابتدا سے ہی کویت نے کوششیں کی ہیں کہ آئی او سی سے اسے نکالا نہ جائے اس سلسلے میں اس نے تعاون کا راستہ بھی اپنایا تاہم وہ کام نہ آیا۔

کویتی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کی معاونت سے ایک وفد جینیوا بھجوایا ہے تاکہ وہ آئی او سی کو وضاحت کر سکے کہ ان کی حکومت کھیلوں کی سرگرمیوں میں کوئی مداخلت نہیں کر رہی۔

وزیرِ اطلاعات نے شکایت کی کہ اس صورتحال نے ان کے ملک کو کھیلوں کے حوالے سے ایک پریشان کن صورتحال سے دو چار کر دیا ہے۔

ان قوانین پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ قانون میں ترامیم آئی او سی اور فیفا کی پابندیوں کو مزید طوالت دینے کی مانند ہیں کیونکہ حکومت کے پاس اب بھی سپورٹس کلب، فیڈریشن اور کویت اولمپکس کمیٹی کو تحلیل کرنے کا اختیار ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ آئی او سی اور فیفا سمیت بین الاقوامی طور پر 16سپورٹس فیڈریشنز نے کویت کو بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں