ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم فیورٹ ہے: وسیم اکرم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عامر کے بارے میں وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی آسان نہیں ہوگی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم فیورٹ ہے۔ حالیہ دنوں میں وہ جس طرح کی شاندار کارکردگی کامظاہرہ کرتی آئی ہے اس سے لگتا ہے کہ اس سیریز میں سخت مقابلہ نہ ہو۔

وسیم اکرم نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ سیریز دراصل پاکستانی بیٹنگ کا امتحان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس صرف دو تجربہ کار بیٹسمین یونس خان اور مصباح الحق ہیں۔ انگلینڈ کی بولنگ کے سامنے پاکستانی ٹیم کے لیے ہر مرتبہ 350 رنز سکور کرنا آسان نہ ہوگا۔پاکستانی بیٹسمینوں کو دفاعی خول میں بند ہونے کے بجائے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنی ہوگی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں 414 اور ون ڈے میں 502 وکٹیں حاصل کرنے والے وسیم اکرم نے کہا کہ سیریز کا بڑی حد تک انحصار اس بات پر ہوگا کہ جیمز اینڈرسن کتنے فٹ ہیں اور کیا وہ پہلے ٹیسٹ میں کھیلنے کی پوزیشن میں ہونگے یا نہیں؟

وسیم اکرم نے کہا کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جولائی میں انگلینڈ کی کنڈیشنز کھیلنے کے لیے آسان ہوجاتی ہیں لیکن وہ اس بات کو نہیں مانتے۔ انگلینڈ میں وکٹیں سیدھی اور آسان نہیں ہوں گی۔ ان وکٹوں پر ڈیوک گیند بہت زیادہ سوئنگ کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اگر یاسر شاہ فٹ ہوئے تو اس سیریز میں ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتے ہیں: وسیم اکرم

وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستانی بولنگ میں بڑی ورائٹی ہے۔ پاکستان کو دو لیفٹ آرم اور ایک رائٹ آرم فاسٹ بولر کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا جبکہ یاسر شاہ کی صلاحیتوں کا بھی امتحان ہے جو کافی عرصے سے نہیں کھیلے ہیں۔اگر وہ فٹ ہوئے تو اس سیریز میں ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتے ہیں۔

محمد عامر کے بارے میں وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی آسان نہیں ہوگی۔ محمد عامر کے پاس رفتار اور مہارت ہے لیکن انھوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد سے صرف ون ڈے اور ٹی 20 میچز کھیلے ہیں لیکن پانچ دن کی کرکٹ نہیں کھیلی۔

وسیم اکرم کے خیال میں ٹیسٹ سیریز کا آغاز لارڈز میں ہونا پاکستان کے لیے اچھی بات ہے کیونکہ اس میدان میں پاکستان نےٹیسٹ میچز جیت رکھے ہیں لیکن یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ ہر میچ نیا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں