فٹ بال کلبز کو لاکھوں ڈالرز واپس کرنا ہوں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عوامی پیسے کا استعمال کیا جانا یورپی یونین کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے

یورپ کے مسابقتی کمیشن کی سبراہ مارگریٹ ویسٹیگر کا کہنا ہے سپین کے سات بڑے فٹ بال کلبز کو ٹیکس دہندگان کی لاکھوں ڈالرز کی رقم واپس کرنا ہوگی۔

برسلز میں موجود یورپی کمیشن کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ تین الگ الگ جامع تحقیقات کے بعد یورپی کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ سپین کی حکومت کی جانب سے سات فٹ بال کلبز کو ان کے مخالفین کے مقابلے میں غیر شفاف طور پر فوائد ملے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ عوامی پیسے کا استعمال کیا جانا یورپی یونین کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ریئل میڈرڈ نے نوے کی دہائی میں زمین کی منتقلی کے معاملے میں ایک کروڑ چوراسی لاکھ یورو کا فائدہ حاصل کیا

اب سپین کے سات بڑے کلبز جن میں بارسلونا، ریئل میڈرڈ، ویلنسیا، ایتھلیٹک بلباؤ، ایٹلیٹکو اوساسونہ، ہرکولیس اور ایلکے شامل ہیں کو حکومت کی جانب سے ملنے والی امدادی رقم واپس کرنا ہوگی۔

سپین کے دارالحکومت میں ایک پراپرٹی ڈیل کے حوالے سے چلنے والے ایک مقدمے میں دنیا کے سب سے دولتمند کلب ریئل میڈرڈ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ دو کروڑ ڈالر ادا کرے۔

تحریری بیان میں دیے جانے والی تفصیلات میں ان فٹ بال کلبز کو غیر قانونی طور پر گذشتہ بیس سال کے عرصے میں ملنے والی مدد اور ان سے متعلق کیسز کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان میں ٹیکس میں چھوٹ، بینکوں کے قرضے اور زمین کی منتقلی کے معاملات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ یورپی کمیشن پانچ فٹ بال کلبوں کو مبینہ طور پر ریاستی امداد کے غیر قانونی استعمال کے حوالے سے تفتیش مکمل ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں