بھارتی جوڑے کے دعوے کی نیپال میں تحقیق شروع

Image caption نیپال کی حکومت نے بھی تفتیش شروع کر دی ہے

نیپال کی حکومت نے بھی بھارت کی پولیس میں ملازم ایک جوڑے کے دنیا کی سب سے بڑی چوٹی ہمالہ سر کرنے کے دعوے کی تصدیق کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

دنیش اور تراکشواری راٹھور جو دونوں پولیس اہلکار ہیں، انھوں نے رواں ماہ میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے 23 مئی کو 8850 میٹر بلند ایورسٹ کو سر کیا ہے۔

لیکن کچھ کوہ پیماؤں نے اس میاں بیوی کے دعوے پر شک کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے چوٹی سر کرتے ہوئے جو تصاویر جاری کی ہیں وہ جعلی ہیں یا ان میں رد و بدل کیا گیا ہے۔

اگر ان کے دعوے جھوٹے ثابت ہو گئے تو ان کا چوٹی سر کرنے کا سرٹیفیکیٹ منسوخ کر دیا جائے گا اور ان کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے۔

مسٹر اور مسز راٹھور ان الزامات کی ترید کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اس مہم پر جانے والے گائیڈ بھی ان کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔

Image caption ان تصاویر کی بنیاد پر انھیں چوٹی سر کرنے کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا گیا تھا

نیپال کے وزیر سیاحت سدرشان پرساد دھکل نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ محمکۂ سیاحت نے ان میاں بیوی کو چوٹی سر کرنے کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا تھا۔ یہ سرٹیفیکیٹ مہم کے منتظمیں اور ہمالہ کے بیس کیمپ پر حکام سے بات کر کے جاری کیا گیا تھا۔

انھوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ سرٹیفیکیٹ ان تصاویر کی بنیاد پر جاری کیا گیا جو کوہ پیماؤں نے خود مہیا کی تھیں اور ان کی تصدیق کرنا مشکل تھا۔

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر تراکشواری راٹھور نے اصرار کیا کہ انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ ہمالہ کی چوٹی کو سر کیا ہے۔

یہ جوڑا بھارت کے شہر پونے میں پولیس کانسٹیبل ہے جہاں پولیس ان کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے تحقیق کر رہی ہے۔

پونے پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس جوڑے کے دعوے اور وہ کوہ پیما جو ان کے دعوے کو غلط قرار دے رہے ہیں ان کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں