ویلز نے یورو کپ میں اپنی شمولیت کو ثابت کیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک طویل مدت کے بعد ہمیں بہت پرجوش اور حیرت انگیز یورو کپ فٹبال دیکھنے کو مل رہا ہے۔

جیسا کہ گذشتہ مضمون میں بیان کیا گیا کہ ڈرا کی غیر متناسب فطرت کا مطلب ہے کہ تمام پاور ہاؤس ٹیمیں ٹورنامنٹ کے آخری حصے میں مدِمقابل ہوں جب کہ کمزور ٹیمیں کسی دوسرے کے ساتھ کھیل سکتی ہیں۔

ان کمزور ٹیموں میں جنھیں ’آسان‘ ہاف ملے ان میں پرتگال شاید سب سے مشہور ٹیم تھی۔

٭ یورو 2016: پرتگال فائنل میں، ویلز کا سفر ختم

٭ ضروری نہیں ’بڑے لڑکے‘ ہی چیمپیئن بنیں

٭ یورو 2016: سچی مسرت، حقیقی مایوسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پرتگال کے پاس یورو کپ کے سیمی فائنلز پہنچنے کا قابلِ فخر ریکارڈ ہے جس کے کپتان رونالڈو دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔

لیکن متعدد لوگوں نے سوچا کہ تھکی ہوئی ٹیم کی منفی سوچ انھیں ٹورنامنٹ سے باہر لیجائے گی۔

اسی دوران جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں پرتگال کی ٹیم نے 90 منٹ کے کھیل میں ابھی تک ایک میچ بھی نہیں جیتا ہے بلکہ انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ شکست نہ کھائیں۔

کروشیا کو میچ کے آخری حصے میں ایک اہم گول کر کے شکست سے دوچار کرنے کے علاوہ پرتگال نے پولینڈ کو بآسانی شکست سے دوچار کیا۔

میچ میں ابتدائی برتری لینے کے باجود پولینڈ پرتگال کو ٹورنامنٹ سے باہر نہیں کر سکا اور میچ کا فیصلہ پیلنٹی کِکس پر ہوا جس میں پرتگال فاتح رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

میچ میں رونالڈو کا سامنا ان کے کلب کے ساتھی ویلش فٹبالر گیرتھ بیل نے کیا جن کی ٹیم نے اس ٹورنامنٹ میں نہ صرف چھوٹی ٹیموں میں سب سے اچھی کارکردگی دکھائی اور کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ میں اپنی شمولیت کو ثابت کیا بلکہ انھوں نے یورو کپ میں انگلینڈ کے ہم پلہ کے طور پر خود کو ثابت کیا۔

بہت زیادہ پسند اور بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بننے والی انگلینڈ کی ٹیم نے گھر بیٹھے ویلز کو بیلجیم کے پرخچے اڑاتے ہوئے دیکھا۔

یورو کپ کے میزبان فرانس کو اس ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میچ میں آئس لینڈ کے خلاف نسبتاً آسان میچ ملا مگر فرانس نے یہ میچ بآسانی دو کے مقابلے میں پانچ گول سے جیتا۔

جو بھی ہو آئس لینڈ کا اس حد تک پہنچنا نہ صرف دنیا بھر کے لیے ایک خوشگوار حیرت تھی بلکہ اس چھوٹے سے ملک کے لیے بھی بڑی بات تھی۔

آئس لینڈ کے فٹبال شائقین کا وائی کنگز سے متاثر ہو کر کیا جانے والا جشن فٹبال کے تاریخ میں یادگار لمحات میں اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ اسی طرح اس کی ٹیم نے اپنے آخری میچ میں زبردست کھیل پیش کر کے ٹورنامنٹ کی یاد رکھی جانے والی داستانوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔

آئس لینڈ نے فرانس کے خلاف پہلے ہاف میں چار گول کے خسارے کے باجود زبردست طریقے سے میچ کا پانسہ پلٹنے کی کوشش کی اور فرانس کے خلاف دو گول کر کے سر اٹھا کر میدان سے نکلے۔

رہی بات فرانس کی تو اسے اب اپنے پرانے حریف کا سامنا ہے جو اس سے پہلے فرانس کو کئی بار شکست دے چکا ہے اور وہ ہے جرمنی۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES

جرمنی نے اس ٹورنامنٹ میں خود اپنے واہموں سے نجات حاصل کی کیونکہ اطالوی مینیجر انٹونیو کونٹے اس ٹورنامنٹ کے ساتھ رخصت ہوں گے جنھیں ٹورنامنٹ کے سب سے بااثر مینیجر سمجھا جاتا ہے۔

کونٹے کی ٹیم نے فٹبال کے عالمی مقابلوں میں جرمنی کو ہمیشہ شکست دی ہے باجود اس کے کہ ان کی ٹیم جرمنی کے مقابلے میں کمزور ہے۔

میچ کا فیصلہ پینلٹی ککس پر ہوا جنھیں اکثر لاٹری سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

کچھ تکلیف دہ اور مضحکہ خیز مس کرنے کے باوجود جرمن ٹیم ایک بار پھر سیمی فائنل پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

اس میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہو گی اگر جرمنی کے کوچ یوآخیم لوو جرمن فٹبال کی ٹرافیوں میں ایک اور یورو ٹائٹل کا اضافہ کر دیتے ہیں۔

اسی بارے میں