دوسرا سیمی فائنل: دونوں فیورٹ آمنے سامنے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کوارٹر فائنل کے مرحلے پر جرمنی کا مقابلے اٹلی سے ہوا تھا اور یہ میچ انتہائی دلچسپ رہا

فٹ بال کے یورو کپ 2016 کے مقابلوں کے دوسرے سیمی فائنل میں جمعرات کو میزبان فرانس کا مقابلہ عالمی چیمپئن جرمنی سے ہونے والا ہے۔

ان مقابلوں کے پہلے سیمی فائنل میں پرتگال کی ٹیم ویلز کو صفر کے مقابلے میں دو گول سے ہرا کر پہلے ہی فائنل میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔

فرانس اس ٹورنامنٹ میں میزبان ہونے کے علاوہ اپنی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے سب سے زیادہ فیورٹ ٹیم ہے جبکہ جرمنی کی ٹیم روائیتی طور پر بڑی مضبوط ٹیم ہے اور اس وقت وہ عالمی چیمپئن بھی ہیں۔

فرانس کے کوچ دیدیئر دیچیمپس کو جمعرات کے سیمی فائنل میں کچھ بڑے فیصلے بھی کرنے ہے کہ جرمنی کے خلاف کس کھلاڑی کو کھلایا جائے اور کسے نہیں۔

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ اینٹوئن گریزمان آئس لینڈ کے خلاف اتنا اچھا کھیلے تھے۔ وہ اچھا کھیلے تھے کیونکہ جس پوزیشن پر وہ کھیل رہے تھے وہ ان کی پسندیدہ پوزیشن تھی۔ وہ دائیں طرف کھلے کھیلنے کے بجائے سٹرائیکر کے پیچھے کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس میچ میں ایسا ہی ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فرانس نے آئس لینڈ کی ٹیم کو دو کے مقابلے میں پانچ گول سے شکست دی۔

فرانس اور آئس لینڈ کی ٹیموں کے درمیان یہ مقابلہ پہلے ہاف میں مکمل طور پر یکطرفہ رہا اور اس میں فرانس کی ٹیم نے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے 45 منٹ میں ہی چار گول کر کے میچ جیت لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانس اور آئس لینڈ کی ٹیموں کے درمیان یہ مقابلہ پہلے ہاف میں مکمل طور پر یکطرفہ رہا

دوسرے ہاف میں آئس لینڈ کی ٹیم جو اس ٹورنامنٹ میں بہت محنت سے کھیل رہی تھی دو گول کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ دوسری طرف فرانس کی ٹیم دوسرے ہاف میں ایک گول کر پائی۔

اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے بھی فرانس کے گریزمان ہیں جنھوں نے اب تک ٹورنامنٹ میں چار گول کیے ہیں۔

کوارٹر فائنل کے مرحلے میں جرمنی کا مقابلہ اٹلی سے ہوا تھا اور یہ میچ انتہائی دلچسپ رہا۔ اس میچ کا فیصلہ مقررہ نوے منٹ میں نہیں ہو سکا اور اس کے بعد پندرہ پندرہ منٹ کے دو ہاف کھیلے گئے لیکن اس اضافی وقت میں بھی کوئی ٹیم گول نہیں کر پائی۔ میچ اس کے بعد پینلٹی کے مرحلے میں پہنچ گیا۔ لیکن بات یہاں پر بھی ختم نہیں ہوئی اور پانچ پانچ پینلٹیز کے بعد بھی فیصلہ نہ ہو سکا۔

اس کے بعد میچ ’سڈن ڈیتھ‘ یا فوری فیصلے کے مرحلے میں پہنچا اور بالآخر جرمنی کی ٹیم سبقت لینے میں کامیاب ہوئی اور اطالوی کھلاڑیوں کو واپسی کے ٹکٹ لینے پڑے۔

اسی بارے میں