سرینا ولیمز ومبلڈن فائنل میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر سرینا ولیمز نے ومبلڈن ٹائٹل جیت تو یہ ان 22واں گرینڈ سلیم ٹائٹل ہو گا

عالمی نمبر ون ٹینس کھلاڑی سرینا ولیمز اپنی روسی حریف سلینا وینسنیا کو باآسانی ہرا کر ایک بار پھر ومبلڈن فائنل میں پہنچ گئی ہیں جہاں ان کا مقابلہ جرمن کھلاڑی اینجلیک کربر سے ہوگا۔

اینجلیک کربر نے سیمی فائنل میں سرینا ولیمز کی بڑی بہن وینس ولیمئز کو ہرا کر ومبلڈن فائنل کو سرینا فائنل بننے سے بچا لیا۔

عالمی رینکنک میں 50ویں نمبر کی روسی کھلاڑی سلینا ویسنینا ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل تک پہنچی تھیں لیکن جمعرات کو سرینا ولیمز نے جس شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا وہ اس کےسامنے وہ بےبسی کی علامت بنی ہوئی تھیں۔

سرینا ولیمز نے حریف ویسنینا کو صرف چالیس منٹوں میں سٹریٹ سیٹ میں 2-6، 0-6 سے ہرا کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

ادھر جرمن کھلاڑی اینجلیک کربر نے سرینا ولیمئز کی بڑی بہن 36سالہ وینس ولیمز کو بھی سٹریٹ سیٹ میں شکست دی۔ اگر سرینا ولیمز نے ایک بار پھر ومبلڈن ٹائٹل اپنے نام کر لیا تو وہ جرمن سٹیفی گراف کے بائیس گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کے ریکارڈ کے برابر پہنچ جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption روسی سلینا ویسنینا اس ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئےسیمی فائنل میں پہنچی تھیں

سرینا ولیمز نے میچ کے بعد کہا کہ ماضی میں ان کے ویسنینا کے ساتھ زبردست میچ ہوئے ہیں۔

’مجھے یقین نہیں آتا کہ میں ومبلڈن فائنل میں پہنچ چکی ہوں۔ رواں سال میرا سکور دو صفر ہے۔(سرینا کو فرنچ اور آسٹریلین اوپن فائنل میں شکست کا سامناکرنا پڑا)۔ میں کم از کم ایک ٹائٹل جیتنے کا تہیہ کیے ہوئے ہو۔‘

تین بار دفعہ ومبلڈن ٹائٹل جیتنے والے جان میکنرو نےکہا کہ آج کے میچ میں ایسا لگتا تھا کہ ویسنینا کی ٹانگیں جواب دی گئی تھی۔ میکنرو نے کہا:’ ایسا ہوتا ہے،جب میں پہلی بار سنٹر کورٹ میں پہنچا تو مجھے ایسا لگا کہ میرے ٹانگیں جواب دے رہی ہیں۔‘

اسی بارے میں