پاکستان دو درجہ ٹیسٹ کرکٹ کا حامی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ تجویز آئی سی سی کے ایڈنبرا میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں سامنے آئی تھی تاہم اسے ستمبر میں ہونے والے اجلاس تک مؤخر کردیا گیا ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کو دو درجوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کی حمایت کردی ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی سنہ 2019 سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں کو دو درجوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں عالمی رینکنگ کی پہلی سات ٹیمیں ایک دوسرے کےخلاف کھیلیں گی جب کہ دو نئی ٹیسٹ ٹیموں کو موجودہ تین ٹیموں کے ساتھ شامل کرکے ان کے میچ کرائے جائیں گے اور دونوں درجوں میں ٹیموں کی کارکردگی کی بنیاد پر ترقی اور تنزلی ہوا کرے گی۔

٭ ’کرکٹ بورڈ کے فیصلے کرنےمیں بااختیار ہوں‘

٭ شہر یار خان پر وزیراعظم کا اعتماد

یہ تجویز آئی سی سی کے ایڈنبرا میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں سامنے آئی تھی تاہم اسے ستمبر میں ہونے والے اجلاس تک مؤخر کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس تجویز کی ایسے وقت حمایت کی ہے جب بنگلہ دیش اور سری لنکن کرکٹ بورڈ نے اسے تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین شہر یارخان نے بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس تجویز کے مکمل حق میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم اپنی عالمی رینکنگ کی بنیاد پر ٹیسٹ کرکٹ کے اول درجے میں ہوگی جب کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا کی جانب سے مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ٹیمیں اس وقت عالمی رینکنگ میں نیچے ہیں لیکن اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کے اوپر والے درجے میں ہو یا نچلے درجے میں وہ اس دو درجہ ٹیسٹ کرکٹ کی حمایت کرے گا۔

ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پاکستان اس وقت تیسرے نمبر پر ہے جب کہ سری لنکا کا ساتواں اور بنگلہ دیش کا نواں نمبر ہے۔

شہر یارخان نے کہا کہ اس دو درجہ ٹیسٹ کرکٹ کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے کہ تمام ممالک ایک دوسرے کےخلاف کھیل سکیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ چاہتا ہے کہ ٹیسٹ سیریز کا پروگرام آئی سی سی کے ہاتھ میں ہو۔

شہر یارخان نے کہا کہ اس دو درجہ ٹیسٹ کرکٹ کے بارے میں لوگوں میں غلط فہمی یہ ہے کہ اس میں بڑی ٹیمیں کمزور ٹیموں سے نہیں کھیلیں گی حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس میں ترقی اور تنزلی کا طریقۂ کار موجود ہے لہذا ہر ٹیم کو ایک دوسرے سے کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔

شہر یارخان نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ آئی سی سی بنگلہ دیش اور سری لنکا کو دو درجہ ٹیسٹ کرکٹ کے بارے میں قائل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

اسی بارے میں