یورو 2016 کا فائنل، فٹبال کی جیت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شائقین اس فائنل کا بہت بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں

فرانس کے سابق سٹرائیکر تھیئری ہنری نے کیا خوب کہا ہے کہ فرانسیسی ٹیم نے یورو 2016 میں عوام کو اکٹھا کر دیا ہے اور اس رشتے کو دوبارہ باندھا ہے جس میں 2010 کے عالمی کپ کے دوران دراڑ آ گئی تھی۔

عالمی کپ کے دوران فرانس اپنے گروہ میں سب سے نیچے تھا لیکن اب اتوار کو وہ یورپیئن چیمپیئن شپ میں پرتگال کے ساتھ فائنل کھیل رہے ہیں۔

ہینری نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا کہ ’ہمارے پاس دوبارہ ٹیم بن گئی ہے۔۔۔ لوگ اب ان سے تعلق بنا سکتے ہیں، سب کچھ ٹریک پر واپس آ گیا ہے۔ ‘

’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ فٹبال سے بہت آگے ہے، کھیل سے بھی آگے۔‘

جنوبی افریقہ میں 2010 میں جب اس وقت کے مینیجر ریمنڈ ڈومینیک نے سٹرائیکر انیلکا کو بدتمیزی کرنے پر ٹیم سے نکالا تو دوسرے کھلاڑیوں نے بھی پریکٹس سے انکار کر دیا تھا۔

’چھ سال پہلے ہر کوئی ہم پر ہنس رہا تھا۔ اب ہمیں آخر میں اس کپ کی ضرورت ہے تا کہ ہم سب کو دکھائیں کہ ہم کتنا آگے آ گئے ہیں۔‘

اس ٹورنامنٹ میں پرتگال بھی آہستہ آہستہ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتا آگے آیا ہے۔ لیکن ویلز کے خلاف میچ رونالڈو کی ٹیم کا اعلان تھا کہ وہ کیوں یہ ٹورنامنٹ جیتنے کے اہل ہیں۔

ویلز اور آئس لینڈ جیسی ٹیموں کے لیے یہ ٹورنامنٹ یادگار رہے گا۔ دونوں ٹیموں نے وہ کر دکھایا جس کے متعلق ان کے حریفوں کی تو بات ہی کیا کریں خود انھیں اور نہ ہی ان کے مداحوں کو توقع تھی۔

فرانس کے لیے سب سے بڑا خطرہ کوئی اور نہیں رونالڈو ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ اسے یہ پتہ بھی ہے۔ ویلز نے رونالڈو کو اپنے حصار میں رکھا ہوا تھا لیکن جیسے ہی انھیں موقع ملا انھوں نے گول کر دیا۔ فرانس کو اس بات کو مدِ نظر رکھنا ہو گا کہ رونالڈو چاہے جتنے بھی حصار میں رہیں، جتنے بھی غیر اہم لگیں، انھیں ردھم میں آنے میں چند لمحات ہی لگتے ہیں اور جیسے ہی ان سے نظر ہٹی انھوں نے گول کر دیا۔ رونالڈو کا کرشمہ اسی کو تو کہتے ہیں۔

31 سالہ رونالڈو کے پاس یہ ایک چانس ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی کیریئر کا پہلا ٹائٹل اپنے ملک کو جیت کو دیں اور اس مرتبہ وہ اس کے بہت نزدیک پہنچ گئے ہیں۔

گذشتہ سال نومبر میں پیرس پر دہشت گرد حملے ہوئے تھے جن میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کئی دھماکے سٹیڈ ڈی فرانس کے سامنے ہوئے تھے جہاں اتوار کا فائنل کھیلا جا رہا ہے۔ پیرس کو ضرورت ہے ایک ایسی جیت کی جس کی گونج نومبر 2015 میں ہونے والے دھماکوں کی آوازوں کو بھلا دے۔ اتوار کا فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیموں اور اس میچ کو دیکھنے والے تماشائیوں کی کوشش ہو گی کہ پیرس کے اس سٹیڈیم میں جیت آخر کھیل کی ہی ہو۔

اسی بارے میں