کرکٹ کے میدان میں پاکستان انگلینڈ کے تلخ و ترش رشتے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان کی ٹیم انگلینڈ کے دورے پر جہاں 14 جولائی سے دونوں کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا آغاز ہو رہا ہے

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ کے رشتے قدرے تلخ و ترش رہے ہیں۔ کبھی امپائرنگ پر سوال اٹھے ہیں تو کبھی گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ پر۔ کبھی سپاٹ فکسنگ کے معاملے نے ضرب لگائی تو کبھی کھیل ہی ختم کر دیا گيا۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم ابھی انگلینڈ کے دورے پر ہے جہاں ان کے درمیان پہلا ٹیسٹ 14 جولائی سے لارڈز میں کھیلا جائے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلی جانے والی سیریز پر نظر ڈالی ہے اور ماضی کے چند ایسے واقعات کو یاد کیا ہے۔

سنہ 1956 کا ادریس بیگ واقعہ

پاکستان کے امپائر ادریس بیگ کو انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے پشاور کے ایک ہوٹل سے اٹھا کر سرد رات میں ان پر دو بالٹی پانی ڈال دیا۔

انگلینڈ کی مہمان ٹیم ایم سی سی کے کپتان ڈونلڈ کار نے اسے مذاق کہہ کر نظر انداز کر دیا لیکن بعض لوگ اسے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تنازع کی جڑ قرار دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مائک گیٹنگ اور شکور رانا کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی

سنہ 1987 میں مائیک گیٹنگ اور شکور رانا

یہ شاید فیلڈ میں سب سے تلخ مباحثہ تھا۔ فیصل آباد ٹیسٹ کے دوسرے دن نے امپائر شکور رانا نے انگلش کپتان مائیک گیٹنگ پر فیلڈر کو غلط طریقے سے ہٹانے کا الزام لگایا۔

گیٹنگ نے کہا کہ انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے جس پر رانا نے انھیں دھوکے باز کہا اور پھر دونوں میں لڑائی ہوئی۔

رانا نے کھیل کے تیسرے دن امپائرنگ سے منع کر دیا اور تیسرے دن کا کھیل نہیں ہو سکا۔

پھر اسے آرام کا دن قرار دیا گیا اور چوتھے دن گیٹنگ نے تحریری معافی مانگی تو کھیل دوبارہ شروع ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اس ٹیسٹ کے متنازع نتیجے کے بعد ڈیرل ہیئر کی امپائرنگ کا دور بھی ختم ہونے لگا

سنہ 1992 میں ریورس سوئنگ پر تنازع

انگلینڈ میں ریورس سوئنگ ابھی نسبتا نئی بات تھی لیکن پاکستانی بولر وسیم اکرم اور وقار یونس اس کا مؤثر استعمال کر رہے تھے جس کا جواب انگلینڈ کے بولروں کے پاس نہیں تھا۔

پاکستانی بولروں پر بال سے چھیڑ چھاڑ کا شبہ کیا جانے لگا اور لارڈز میں ہونے والے ون ڈے میں یہ معاملہ اٹھ کھڑا ہوا۔

خراب موسم کی وجہ سے میچ دوسرے روز کے لیے ٹل گیا اور تینوں امپائروں نے قانون نمبر 42 کے مطابق گیند کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔

منتظمین نے گیند کی تبدیلی پر کسی سکینڈل کے خوف سے گیند کی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا جس پر پاکستان ناراض تھا کیونکہ اس کی وجہ سے اس پر بہت سے الزمات لگائے گئے۔

اسی دوران انگلینڈ کے بلے باز ایلن لیمب نے برطانیہ کے اخبار ڈیلی مرر کو ’پاکستانی کس طرح کرکٹ میں دھوکہ دیتے ہیں‘ کے عنوان سے انٹرویو دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption عمران خان کے خلاف ایلن لیمب ایک مقدمہ ہار گئے تھے

سنہ 2006 میں اوول میں میچ کو چھوڑ دینا

کرکٹ کی 129 سالہ تاريخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی ٹیم نے میچ کے دوران کھیلنے سے انکار کر دیا ہو اور اس کی وجہ سے مخالف ٹیم کو فاتح قرار دیا گیا۔

ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن آسٹریلیا کے امپائر ڈیرل ہیئر نے پانچ پینلٹی رنز کا اشارہ دیا کہ انھوں نے پاکستانیوں کو گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا مرتکب پایا ہے۔

پاکستانی ٹیم احتجاجاً چائے کے وقفے کے بعد میدان میں نہیں گئی اور ڈیرل ہیئر اور دوسرے امپائر بلی ڈوکٹرو نے اس کا مطلب یہ نکالا کہ پاکستان نے میچ چھوڑ دیا ہے اور کئی گھنٹوں کے مخمصے کے بعد انگلینڈ کو فاتح قرار دیا گیا۔

اس واقعے کے بعد امپائر ہیئر کے دور کا خاتمہ بھی ہوگیا کیونکہ یہ بات سامنے آئی کہ انھوں نے پانچ لاکھ ڈالر کے عوض ریٹائرمنٹ کے اعلان کی پیشکش کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وسیم اکرم اور وقار یونس کی ریورس سوئنگ کا انگلینڈ کے پاس جواب نہیں تھا

سنہ 2010 میں ریاض اور ٹراٹ کا قضیہ

سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے سبب پاکستان کا دورہ پہلے ہی متاثر ہو چکا تھا لیکن جب ٹیم ون ڈے کے لیے آمنے سامنے آئی تو انگلش بلے باز جوناتھن ٹراٹ اور پاکستان کے بولر وہاب ریاض لڑ پڑے اور امپائروں کو دونوں کو الگ کرنا پڑا۔

اسی بارے میں