ماریہ شراپووا ریو اولمپکس میں شرکت نہیں کر پائیں گی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

کھیلوں کی ثالثی عدالت نے روس کی ٹینس سٹار ماریہ شراپووا کی دو سالہ پابندی کے خلاف اپیل کا فیصلہ 19 ستمبر تک ملتوی کر دیا ہے جس کے بعد آئندہ ماہ ریو میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں ان کی شرکت کے تمام امکانات ختم ہوگئے ہیں۔

روس سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ ماریہ شراپووا کا جنوری میں آسٹریلین اوپن کے دوران میلڈونیم نامی دوا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے ماریہ شراپووا پر دو سال کی پابندی لگا دی تھی۔

پابندی کے فیصلہ پر دوبارہ غور کے لیے شراپوا نے گذشتہ ماہ کھیلوں کی ثالثی عدالت میں اپیل کی تھی۔تاہم انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن اور ماریہ شراپووا کو اپنے کیسز پر کام کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں اولمپکس مقابلوں کا آغاز پانچ اگست سے ہونے والا ہے۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ماریہ شراپووا اور بین القوامی ٹینس فیڈریشن نے کھیلوں کی ثالثی عدالت کی جانب سے رواں سال ستمبر تک فیصلے کو ملتوی کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

خیل رہے کہ روس نے گذشتہ مئی میں ریو اولمپکس مقابلوں کے لیے اپنی ٹینس ٹیم میں اس وقت ممنوعہ ادویات کے ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد پابندی کا سامنا کرنے والی ٹینس سٹار ماریہ شراپووا کو بھی شامل کیا تھا۔

روس کی ٹینس فیڈریشن کا کہنا تھا کہ ’ریو اولمپکس میں ماریہ شراپووا کی شمولیت کا مسئلہ رواں ہفتے حل کر لیا جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں