منفی پریس کوریج پر توجہ نہیں دے رہے: مصباح الحق

بی بی سی اردو نے کرکٹ کے گھر لارڈز سے اپنے پہلے فیس بُک لائیو میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو مدعو کیا جسے بی بی سی اردو عادل شاہ زیب نے پیش کیا اور اُن سے اپنے قارئین کی جانب سے بھجوائے گئے سوالات پوچھے۔

مصباح الحق نے ٹیم کے مورال پر کہا کہ ’ہماری ساری توجہ اپنی تیاری اور سیریز پر ہے اور اس بات پر ہے کہ ہم نے میدان میں کیا کرنا ہے نہ کہ اس بات پر کہ پریس کیا کہہ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بیٹسمین اچھی فارم میں ہیں اور ان کی کارکردگی دیکھ کر ہم مطمئن ہیں اور بالرز کا ردم بھی اچھا لگ رہا ہے اور سیریز سے پہلے جتنا کانفیڈینس چاہیے وہ ملا ہے ٹیم کو۔ اور ہمیں جس طرع کے انگلش بولنگ اٹیک کا سامنہ کرنا ہے اس لحاظ سے جو ہمیں تیاری چاہیے تھی وہ ملی ہے۔ بیٹنگ کارکردگی پر سوال کے جواب میں مصباح نے کہا کہ انگلینڈ کی کنڈیشنز مختلف ہیں اور پریکٹس میچوں میں رنز سکور کر کے جو بیٹسمین کو اعتماد ملتا ہے وہ ہمارے بیٹسمینوں کو ملا ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم کے کھلاڑیوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی ایک کھلاڑی نہیں بلکہ پورے کے پورے گیارہ کھلاڑیوں کو دیکھنا ہوتا ہے اور ہر کھلاڑی اہم ہے۔

مصباح نے کہا کہ ’انگلینڈ کی ٹیم میں سارے کھلاڑیوں پر ہماری توجہ ہے مگر الیسٹر کُک، جو روٹ اور جونی بیرسٹو بیٹنگ میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ براڈ اچھی بالنگ کروا رہے ہیں۔‘ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بارے میں مصباح کا کہنا تھا کہ بورڈ جتنا کھلاڑیوں کو اعتماد دیتا ہے اتنا ہی ان کے لیے اچھا ہوتا ہے۔

مصباح نے اس لائیو میں ذاتی سوالات کے جواب بھی دیے خصوصاً جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اُن کے گھر میں کوئی کرکٹ میں دلچسپی رکھتا ہے تو مصباح نے بتایا کہ اُن کا بیٹا کرکٹ میں دلچسپی رکھتا ہے۔‘

مصباح جو حال ہی میں عمرہ کر کے آئے ہیں اور اُن کی داڑھی پر بہت سارے کمنٹس موصول ہوئے جس پر مصباح نے بتایا کہ انسان میں تبدیلی تو آتی رہتی ہے مگر اُن کی زندگی نارمل ہے۔

محمد عامر کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’عامر پر کوئی دباؤ نہیں ہے ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہے کیونکہ وہ اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔‘

سمیع اسلم کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’سکواڈ میں شامل کوئی بھی کھلاڑی کھیل سکتا ہے۔‘

ریٹائرمنٹ کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ’دیکھتے ہیں اب تک کچھ بھی حتمی نہیں ہے۔‘

آپ یہ پورا فیس بُک لائیو اس لنک پر کلک کر کے فیس بُک پر دیکھ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں