پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سخت ترین آزمائش

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستانی کرکٹ ٹیم لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچ جیت چکی ہے جب کہ انگلینڈ کی ٹیم چار ٹیسٹ میچوں میں فاتح رہی ہے

پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیمیں جمعرات سے لارڈز میں چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں مدمقابل ہو رہی ہیں۔

سنہ 2010 میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد پاکستانی ٹیم کا یہ پہلا دورۂ انگلینڈ ہے۔

٭ تنازعات کے بجائے کرکٹ پر توجہ دی جائے: کک

٭ ’ہم لوگ تیاری کر کے آئے ہیں‘

٭ منفی پریس کوریج پر توجہ نہیں دے رہے: مصباح الحق

چھ سال قبل سپاٹ فکسنگ سکینڈل لارڈز ہی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں سامنے آیا تھا جس میں ملوث تینوں پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو سزائیں ہوئی تھیں ان میں سے محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہو چکی ہے اور وہ واپسی کے بعد پہلی بار ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption محمد عامر نے چھ سال قبل انگلینڈ کے خلاف کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے 19 وکٹیں حاصل کی تھیں اور مین آف دی سیریز رہے تھے

محمد عامر نے چھ سال قبل انگلینڈ کے خلاف کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے 19 وکٹیں حاصل کی تھیں اور مین آف دی سیریز رہے تھے۔

انھوں نے لارڈز ٹیسٹ میں 84 رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کی تھیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے کم عمری میں 50 وکٹیں مکمل کرنے والے بولر بھی بن گئے تھے لیکن سپاٹ فکسنگ سکینڈل نے ان کے کریئر کو بری طرح متاثر کیا۔

کپتان مصباح الحق اس سیریز کو اپنے کریئر کا سخت ترین امتحان قرار دے رہے ہیں۔

وہ سب سے زیادہ 20 ٹیسٹ میچ جیتنے والے پاکستانی کپتان ہیں تاہم ان کی بیشتر کامیابیاں ایشیا میں رہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مصباح الحق اپنے کرئیر میں پہلی بار انگلینڈ میں ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو لارڈز ٹیسٹ میں خطرناک جیمز اینڈرسن کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے جو ان فٹ ہیں اس کے باوجود اس میچ کو پاکستانی بیٹسمینوں کی کڑی آزمائش کہا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انگلینڈ کی بیٹنگ لائن میں کپتان الیسٹر کک سب سے تجربہ کار بیٹسمین ہیں جو ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار سے زائد رنز مکمل کر چکے ہیں

پاکستانی بیٹسمینوں میں صرف محمد حفیظ، یونس خان اور اظہر علی کو اس سے قبل انگلینڈ میں ٹیسٹ کھیلنے کا تجربہ ہے تاہم ان تینوں کے علاوہ مصباح الحق، اسد شفیق اور سرفراز احمد کی موجودگی میں پاکستانی بیٹنگ لائن کو مضبوط سمجھا جا رہا ہے۔

مبصرین پاکستانی بولنگ اٹیک کو متوازن قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ لیگ سپنر یاسر شاہ کا کردار اس سیریز میں بہت اہم ہوگا جو صرف 12 ٹیسٹ میچوں میں 76 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

یاسر شاہ ڈوپنگ کی تین ماہ کی پابندی ختم ہونے کے بعد دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آئے ہیں۔

انگلینڈ کی بیٹنگ لائن میں کپتان الیسٹر کک سب سے تجربہ کار بیٹسمین ہیں جو ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار سے زائد رنز مکمل کر چکے ہیں۔ ان کے علاوہ جو روٹ سے بھی میزبان ٹیم بہت زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے جو 52 رنز کی اوسط سے3,000 سے زائد رنز بنا چکے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچ جیت چکی ہے جب کہ انگلینڈ کی ٹیم چار ٹیسٹ میچوں میں فاتح رہی ہے۔

اسی بارے میں